لکی مروت: خیبرپختونخوا کے ضلع لکی مروت میں جمعیت علمائے اسلام کے مقامی رہنما اور سابق ویلیج ناظم گل زرین سمیت دو افراد کی لاشیں برآمد ہونے کے بعد علاقے میں شدید کشیدگی پیدا ہوگئی، جبکہ واقعے کے خلاف کارکنوں اور لواحقین نے پشاور۔کراچی انڈس ہائی وے بلاک کرکے احتجاج شروع کر دیا۔
پولیس کے مطابق خانزادہ خیل کے علاقے میں سڑک کنارے سے دو افراد کی گولیوں سے چھلنی لاشیں ملی ہیں۔ مقتولین کی شناخت گل زرین ٹھیکیدار اور مطیع اللہ کے نام سے ہوئی ہے، جن کا تعلق پہاڑ خیل پکہ سے بتایا جاتا ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق دونوں افراد کو فائرنگ کرکے قتل کیا گیا۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ گل زرین سابق ویلیج ناظم تھے اور جمعیت علمائے اسلام کی تحصیل سطح کی سیاست میں سرگرم کردار ادا کر رہے تھے۔
واقعے کے بعد جمعیت علمائے اسلام لکی مروت نے شدید ردعمل دیتے ہوئے احتجاج کا اعلان کیا۔ کارکنوں، مقامی رہنماؤں اور مقتولین کے لواحقین نے تاجہ زئی کے مقام پر لاشیں رکھ کر پشاور۔کراچی انڈس ہائی وے ہر قسم کی آمدورفت کے لیے بند کر دی، جس کے باعث شاہراہ کے دونوں اطراف گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں اور مسافروں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
احتجاج میں جمعیت علمائے اسلام کے مرکزی رہنما مولانا فضل الرحمان کے صاحبزادے اسجد محمود نے بھی شرکت کی۔ انہوں نے مقتولین کے اہل خانہ سے تعزیت اور یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے واقعے کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا۔
مقتولین کے لواحقین نے الزام عائد کیا ہے کہ گل زرین اور مطیع اللہ کو مبینہ طور پر پولیس امن کمیٹی نے تحویل میں لیا تھا، جس کے بعد ان کی لاشیں برآمد ہوئیں۔ مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ واقعے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کر کے ذمہ دار عناصر کو قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے۔
احتجاجی شرکا کا کہنا ہے کہ انصاف کی یقین دہانی تک دھرنا جاری رکھا جائے گا، جبکہ مقتولین کی نماز جنازہ بھی احتجاجی مقام پر ادا کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔
دوسری جانب پولیس اور ضلعی انتظامیہ کی جانب سے لواحقین کے الزامات پر تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔