حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
وفاقی بجٹ آج پیش ہوگا، تنخواہ دار طبقے کو بڑا ریلیف، الیکٹرک گاڑیوں اور کرپٹو پر اہم فیصلے متوقع Home / پاکستان /

وفاقی بجٹ آج پیش ہوگا، تنخواہ دار طبقے کو بڑا ریلیف، الیکٹرک گاڑیوں اور کرپٹو پر اہم فیصلے متوقع

ایڈیٹر - 12/06/2026
وفاقی بجٹ آج پیش ہوگا، تنخواہ دار طبقے کو بڑا ریلیف، الیکٹرک گاڑیوں اور کرپٹو پر اہم فیصلے متوقع

اسلام آباد: وفاقی حکومت آج مالی سال 2026-27 کے لیے 17.5 ٹریلین روپے سے زائد حجم کا وفاقی بجٹ قومی اسمبلی میں پیش کرے گی، جس میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں اضافے، تنخواہ دار طبقے کو ٹیکس ریلیف اور معیشت کے مختلف شعبوں کے لیے متعدد اہم اقدامات متوقع ہیں۔

بجٹ پیش کیے جانے سے قبل وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا خصوصی اجلاس ہوگا، جس میں بجٹ تجاویز اور سرکاری ملازمین کی تنخواہوں و پنشن میں اضافے کی منظوری دی جائے گی۔ کابینہ کی منظوری کے بعد وزیر خزانہ محمد اورنگزیب قومی اسمبلی میں بجٹ پیش کریں گے۔

ذرائع کے مطابق آئندہ مالی سال کے لیے ٹیکس وصولیوں کا ہدف 15 ہزار 267 ارب روپے مقرر کیے جانے کا امکان ہے جبکہ تنخواہ دار طبقے کو تقریباً 50 ارب روپے تک کا ٹیکس ریلیف دینے کی تجویز زیر غور ہے۔ انکم ٹیکس سلیب کی تعداد 6 سے بڑھا کر 8 کیے جانے اور مختلف آمدنی والے طبقات کے لیے ٹیکس شرحوں میں کمی کی تجاویز بھی شامل ہیں۔

بجٹ میں سولر پینلز، اسٹیشنری اشیا اور اسٹاک مارکیٹ پر عائد موجودہ ٹیکسوں میں کوئی بڑی تبدیلی نہ کرنے کا امکان ہے۔ سولر پینلز پر سیلز ٹیکس 10 فیصد سے بڑھا کر 18 فیصد کرنے کی تجویز واپس لیے جانے کی اطلاعات ہیں، جبکہ اسٹیشنری اشیا پر اضافی سیلز ٹیکس بھی متوقع بجٹ کا حصہ نہیں ہوگا۔

دوسری جانب درآمدی الیکٹرک گاڑیوں پر سیلز ٹیکس 25 فیصد تک بڑھانے کی تجویز زیر غور ہے، تاہم مقامی سطح پر تیار ہونے والی الیکٹرک گاڑیوں کی حوصلہ افزائی کے لیے موٹرز، بیٹریوں اور دیگر پرزہ جات پر کسٹم ڈیوٹی اور سیلز ٹیکس صرف ایک فیصد رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی، کیپیٹل ویلیو ٹیکس اور ودہولڈنگ ٹیکس میں مکمل چھوٹ کی تجاویز بھی سامنے آئی ہیں۔

ذرائع کے مطابق حکومت روایتی ایندھن سے چلنے والی گاڑیوں پر کاربن لیوی عائد کرنے پر غور کر رہی ہے، جس سے بڑی گاڑیوں کی قیمتوں میں اضافے کا امکان ہے، جبکہ مقامی الیکٹرک گاڑیاں نسبتاً سستی ہو سکتی ہیں۔

بجٹ میں کرپٹو ٹریڈنگ کو باقاعدہ ٹیکس نیٹ میں شامل کرنے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔ مجوزہ اقدامات کے تحت کرپٹو ٹرانزیکشنز سے حاصل ہونے والے منافع پر 10 سے 30 فیصد تک کیپیٹل گین ٹیکس عائد کیا جا سکتا ہے۔

حکومت آئندہ مالی سال کے دوران پیٹرولیم لیوی کی مد میں ایک ہزار 727 ارب روپے وصول کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، جبکہ قرضوں پر سود کی ادائیگی کے لیے 7 ہزار 824 ارب روپے مختص کیے جانے کی تجویز ہے۔ دفاعی بجٹ تقریباً 3 ہزار ارب روپے رہنے کا امکان ہے۔

اقتصادی اہداف کے تحت زرعی شعبے کی شرح نمو 3.8 فیصد، صنعتی شعبے کی 4 فیصد، بڑی صنعتوں کی 4.5 فیصد اور خدمات کے شعبے کی 4.2 فیصد مقرر کرنے کی تجویز ہے۔ حکومت نے 20 لاکھ نئے روزگار کے مواقع پیدا کرنے کا ہدف بھی مقرر کیا ہے، جن میں 11 لاکھ ملازمتیں خدمات، 5 لاکھ صنعت اور 4 لاکھ زرعی شعبے میں پیدا کرنے کا منصوبہ شامل ہے۔

قومی اقتصادی کونسل پہلے ہی 3 ہزار 669 ارب روپے کے قومی ترقیاتی منصوبے کی منظوری دے چکی ہے، جبکہ وفاقی ترقیاتی پروگرام کا حجم ایک ہزار ارب روپے تجویز کیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق دفاع اور وزارت داخلہ کے علاوہ کسی بھی نئے ترقیاتی منصوبے کے آغاز کی اجازت نہ دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

بجٹ میں 220 ارب روپے کے نئے ٹیکس اقدامات اور ٹیکس نفاذ کے ذریعے ایک ہزار ارب روپے اضافی ریونیو حاصل کرنے کا ہدف بھی متوقع ہے۔ ساتھ ہی سابق قبائلی اضلاع کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کرنے اور متعدد اشیائے خور و نوش کو سیلز ٹیکس کے تیسرے شیڈول میں شامل کرنے کی تجاویز بھی زیر غور ہیں۔

معاشی ماہرین کے مطابق بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کے لیے ممکنہ ریلیف اور مقامی الیکٹرک گاڑیوں کی صنعت کے لیے مراعات مثبت پیش رفت ثابت ہو سکتی ہیں، تاہم نئے ٹیکس اقدامات اور بعض ضروری اشیا پر ٹیکس برقرار رہنے سے مہنگائی کے خدشات بھی موجود ہیں۔