محکمہ صنعت کی جانب سے مختلف ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے اہم تفصیلی اور مالیاتی کارکردگی کی رپورٹ جاری کر دی گئی ہے، جس کے مطابق قبائلی اضلاع کے لیے شروع کیے گئے اعلیٰ ترجیحی اور فلیگ شپ منصوبے فنڈز کی عدم دستیابی اور سست روی کے باعث شدید بحران کا شکار ہیں۔ جاری کردہ دستاویزات کے مطابق "ماڈرن گریز ٹیکنالوجی" کا اہم ترین منصوبہ ناکامی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے، جس کی کل لاگت 50 ملین روپے تھی لیکن رواں سال اس کے لیے محض 0.001 ملین (ایک ہزار روپے) روپے مختص کیے گئے ہیں۔ پرانا منصوبہ ہونے اور اس وقت زیرِ نظرِ ثانی ہونے کی وجہ سے اس پر حالیہ اخراجات صفر رہے ہیں، جس کے باعث اسے فلیگ شپ منصوبوں کی فہرست سے نکالنے کی باقاعدہ سفارش کی گئی ہے۔
رپورٹ کی تفصیلات کے مطابق، یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی کے اعلیٰ ترجیحی منصوبے کی کل لاگت 3,755.5 ملین روپے ہے، جس پر اب تک 1,796.4 ملین روپے خرچ ہو چکے ہیں۔ رواں سال اس منصوبے کے لیے 342.828 ملین روپے مختص کیے گئے تھے جن میں سے محض 204.668 ملین روپے جاری ہوئے، تاہم اس پر حالیہ اخراجات تاحال صفر ریکارڈ کیے گئے ہیں۔ اسی طرح کاروبارِ نو (انٹرپرینیورشپ بالخصوص کارو بارِ نو) کے فروغ کے اعلیٰ ترجیحی منصوبے کی مجموعی لاگت 2,007.5 ملین روپے ہے، جس پر اب تک 807.2 ملین روپے خرچ ہوئے ہیں۔ اس منصوبے کے لیے محض 10 ملین روپے میں سے 8.150 ملین روپے جاری کیے گئے جبکہ صرف 4.500 ملین روپے استعمال میں لائے جا سکے ہیں۔
دستاویزات کے مطابق ضم شدہ اضلاع کے لیے فلیگ شپ اور اعلیٰ ترجیحی منصوبے کی کل لاگت 685.1 ملین روپے ہے، جس پر اب تک 196 ملین روپے کے اخراجات آئے ہیں۔ اس منصوبے کے لیے 292.139 ملین روپے مختص کیے گئے، جس میں سے 133.774 ملین روپے جاری ہوئے اور 124.240 ملین روپے خرچ کیے گئے۔ تاہم ریمارکس میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ منصوبہ میگا پراجیکٹ کے طور پر کوئی بڑا اثر برقرار رکھنے میں ناکام رہا ہے، اس لیے اسے بھی فلیگ شپ منصوبوں کی فہرست سے ہٹانے کی تجویز دی گئی ہے۔ علاوہ ازیں، باقی ماندہ کاموں کی تکمیل کے فلیگ شپ منصوبے کی کل لاگت 1,349.1 ملین روپے ہے، جس پر اب تک 334.1 ملین روپے خرچ ہوئے ہیں۔ اس کے لیے مختص 232.766 ملین روپے میں سے 104.745 ملین روپے جاری ہوئے اور وہ تمام کے تمام (104.744 ملین روپے) استعمال کر لیے گئے۔