وفاقی حکومت نے سول سرونٹس اور تمام سرکاری ملازمین کے لیے دُہری شہریت کے حوالے سے قوانین مزید سخت کرتے ہوئے انہیں 90 یوم کے اندر غیر ملکی تابعیت ڈیکلیئر کرنے کا حکم جاری کر دیا ہے۔ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے "فارن نیشنلٹی رولز 2026ء" پر باقاعدہ عمل درآمد کا آغاز کر دیا ہے، جس کے تحت وفاقی حکومت کے زیرِ اثر کام کرنے والے تمام ملازمین کے لیے دُہری شہریت کی تفصیلات ظاہر کرنا اب قانونی طور پر لازمی ہوگا۔ اس سلسلے میں تمام متعلقہ افسران کو 90 روز کے اندر ایک باقاعدہ ڈیکلیریشن جمع کرانے کی حتمی ہدایت کی گئی ہے۔
جاری کردہ سرکاری میمورنڈم کی تفصیلات کے مطابق، تمام سرکاری افسران اور ملازمین اپنی غیر ملکی شہریت، پاسپورٹ، مستقل رہائش (PR status) اور دیگر غیر ملکی وابستگیوں کی مکمل تفصیلات فراہم کرنے کے پابند ہوں گے۔ اس قانون کا دائرہ کار صرف ملازم تک ہی محدود نہیں ہوگا، بلکہ سول سرونٹس کو اپنے شریکِ حیات (بیوی یا شوہر) اور زیرِ کفالت بچوں کی غیر ملکی شہریت اور امیگریشن اسٹیٹس سے متعلق معلومات بھی لازمی طور پر جمع کرانی ہوں گی۔ حکومت نے نئی بھرتیوں کے لیے بھی غیر ملکی شہریت اور امیگریشن سے متعلق ڈیکلیریشن جمع کرانا لازمی قرار دے دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق، حکومت نے واضح کیا ہے کہ ان قوانین کا مقصد سرکاری محکموں میں شفافیت اور قومی سلامتی کو یقینی بنانا ہے۔ رولز کے تحت اگر کوئی بھی سرکاری افسر یا ملازم مقررہ وقت میں حقائق چھپانے یا غلط معلومات فراہم کرنے کا مرتکب پایا گیا، تو اسے قانون کی سنگین خلاف ورزی تصور کیا جائے گا۔ ایسے ملازمین کے خلاف سخت ترین آئینی و محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے گی جس میں ملازمت سے برطرفی بھی شامل ہو سکتی ہے۔