خیبر پختونخوا کے مختلف سرکاری ہسپتالوں میں گزشتہ ایک ماہ کے دوران ڈاکٹروں، نرسوں اور سیکیورٹی اہلکاروں کے ساتھ مریضوں کے لواحقین کی بدتمیزی اور تنازعات کے واقعات میں خطرناک حد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ باوثوق ذرائع کے مطابق پشاور کے بڑے تدریسی ہسپتالوں بشمول کے ٹی ایچ، ایچ ایم سی اور ایل آر ایچ میں روزانہ کی بنیاد پر ایسے واقعات رپورٹ ہو رہے ہیں جہاں تیماردار معمولی باتوں پر مشتعل ہو کر طبی عملے کے ساتھ دست درازی اور گالی گلوچ پر اتر آتے ہیں، جس سے ہسپتالوں کا امن و امان بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق تنازعات کی شدت میں اضافے کی بڑی وجہ یہ سامنے آئی ہے کہ مریضوں کے اہل خانہ ہر چھوٹی بڑی بات پر موبائل فون نکال کر ہسپتال کے اندر ویڈیوز بنانا شروع کر دیتے ہیں، جو عملے کو اشتعال دلانے اور ماحول کو مزید خراب کرنے کا سبب بنتا ہے۔ ہسپتال انتظامیہ کے حکام کا کہنا ہے کہ تمام وارڈز اور برآمدوں میں واضح نوٹسز آویزاں کیے گئے ہیں جن کے تحت ہسپتال کے اندر کسی بھی قسم کی ویڈیو یا تصویر بنانا قانونی طور پر سخت ممنوع ہے۔ قوانین کے مطابق اس پابندی کی خلاف ورزی کرنے والوں کو 7 سال تک قید یا 10 لاکھ روپے تک جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔
انتظامیہ اور ایڈمنسٹریشن کے اہلکاروں نے اپنے مشترکہ بیان میں تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سخت ترین قوانین کے باوجود روزانہ ایسے واقعات سامنے آنا مریضوں اور طبی عملے دونوں کے لیے انتہائی خطرناک صورتحال پیدا کر رہا ہے۔ حکام کے مطابق اس سنگین مسئلے کا مستقل حل صرف مضبوط سیکیورٹی نگرانی، ہسپتال کے عملے کی خصوصی تربیت اور لواحقین کے لیے آگاہی مہم کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ انتظامیہ کا عزم ہے کہ ان اقدامات پر سختی سے عمل درآمد کرایا جائے گا تاکہ ہسپتالوں میں نہ صرف علاج معالجے کی سہولیات بلاتعطل جاری رہیں بلکہ عملے اور مریضوں کو ایک محفوظ اور پرامن ماحول فراہم کیا جا سکے۔