آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ میں تنخواہ دار افراد اور برآمدی شعبے کے لیے متعدد ریلیف اقدامات متوقع ہیں۔ ذرائع کے مطابق زیادہ آمدن والوں کے لیے بلند ترین انکم ٹیکس سلیب کی حد بڑھانے اور اضافی سرچارج ختم کرنے کی تجاویز زیر غور ہیں۔
حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ برآمدی شعبے کو سہولت دینے کے لیے ایک فیصد برآمدی ٹیکس واپس لینے پر بھی غور کیا جا رہا ہے، جبکہ بجٹ تقریر میں اس شعبے کے لیے خصوصی مراعات کا اعلان متوقع ہے۔
برآمد کنندگان نے حکومت کو تجویز دی ہے کہ سابق ٹیکس نظام کو اختیاری بنیادوں پر بحال کیا جائے، سیلز ٹیکس ریفنڈز بروقت ادا کیے جائیں اور مالی مشکلات کا شکار کاروباری اداروں کو مزید ٹیکس ریلیف دیا جائے۔ اس کے علاوہ ٹیکس دہندگان کو غیر ضروری کارروائیوں سے بچانے کے لیے خصوصی نگرانی کمیٹی قائم کرنے کی سفارش بھی کی گئی ہے۔
دوسری جانب حکومتی ذرائع کے مطابق سولر پینلز، اسٹیشنری اشیا اور اسٹاک مارکیٹ پر موجودہ ٹیکس شرحوں میں کسی قسم کی تبدیلی نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ سولر پینلز پر سیلز ٹیکس میں اضافے کی تجویز واپس لے لی گئی ہے جبکہ اسٹیشنری مصنوعات پر اضافی ٹیکس لگانے کی تجویز بھی بجٹ کا حصہ نہیں ہوگی۔
ذرائع کے مطابق یکم جولائی سے اسٹاک مارکیٹ پر نافذ ٹیکسوں میں بھی کوئی ردوبدل متوقع نہیں، جس سے سرمایہ کاروں اور کاروباری حلقوں کو پالیسی کے تسلسل کا اشارہ ملے گا۔