اسلام آباد : نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے ملک کے بالائی اور پہاڑی علاقوں میں 15 جون تک گرج چمک اور تیز ہواؤں کے ساتھ شدید بارشوں کے پیشِ نظر ہائی الرٹ جاری کر دیا ہے۔ ادارے کی جانب سے جاری کردہ حالیہ ایڈوائزری کے مطابق، ان طوفانی بارشوں کے باعث مختلف پہاڑی اور نشیبی علاقوں میں اچانک شدید سیلابی صورتحال (فلیش فلڈنگ) پیدا ہونے کا قوی اندیشہ ہے۔ حکام نے متعلقہ انتظامیہ کو الرٹ رہنے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے پیشگی اقدامات کرنے کی سخت ہدایات جاری کی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، گلگت بلتستان، خیبرپختونخوا اور آزاد کشمیر کے متعدد اضلاع میں ندی نالوں اور برساتی گزرگاہوں میں شدید طغیانی کا خطرہ ہے۔ خاص طور پر چترال، شانگلہ، کوہستان، بٹگرام، مانسہرہ، مظفرآباد، وادی نیلم، باغ اور راولاکوٹ جیسے علاقوں کو حساس قرار دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ گلگت بلتستان کے اضلاع غذر، دیامر، تانگیر، داریل اور گپس یاسین میں بھی سیلابی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔ ادارے نے 12 سے 15 جون کے دوران قراقرم ہائی وے اور جگلوٹ-اسکردو روڈ پر لینڈ سلائیڈنگ کے باعث عارضی بندش اور سفری مشکلات کا بھی انتباہ دیا ہے۔
دوسری جانب، محکمہ موسمیات نے پیشگوئی کی ہے کہ 11 سے 13 جون کے دوران وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور پنجاب کے مختلف اضلاع میں بادل برسیں گے، جبکہ خیبرپختونخوا، سندھ اور بلوچستان کے بیشتر علاقوں میں بھی تیز ہواؤں کے ساتھ بارش اور بعض مقامات پر ژالہ باری کا امکان ہے۔ این ڈی ایم اے نے نشیبی علاقوں کے رہائشیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل رہنے اور سیاحوں کو پہاڑی علاقوں کا غیر ضروری سفر فوری طور پر ترک کرنے کی اپیل کی ہے۔