وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے نیشنل اکنامک کونسل (NEC) کے اہم اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے اجلاس کے دوران خیبر پختونخوا کے عوام کا مقدمہ بھرپور اور مدلل انداز میں پیش کیا ہے۔ صوبے کے آئینی، مالی اور ترقیاتی حقوق کے تحفظ کے لیے ایک واضح اور غیر مبہم مؤقف اختیار کیا گیا ہے جس پر وزیر اعظم کی جانب سے یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ 180 دن کے اندر اندر نیشنل فنانس کمیشن (NFC) ایوارڈ کو اپڈیٹ کرنے کے لیے باقاعدہ اجلاس منعقد کیے جائیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر مقررہ مدت میں اتفاقِ رائے پیدا نہ ہو سکا تو صدرِ مملکت کو سمری بھجوا کر صدارتی آرڈر کے ذریعے این ایف سی ایوارڈ کو اپڈیٹ کیا جائے گا۔
وزیر اعلیٰ نے خصوصی طور پر خیبر پختونخوا کے عوام بالخصوص ضم شدہ اضلاع کے شہریوں کے لیے ایک بڑی خوشخبری کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ نئے این ایف سی ایوارڈ میں ضم شدہ اضلاع کا مالی حصہ شامل کیا جائے گا۔ تیز رفتار عمل درآمد پروگرام (AIP) میں مجوزہ کٹوتی کے حوالے سے ہونے والے مذاکرات کے بعد صورتحال میں کافی حد تک بہتری آئی ہے، تاہم صوبائی حکومت نے مزید بہتری کے لیے بھی بھرپور مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ضم شدہ اضلاع کے سالانہ ترقیاتی پروگرام اور اے آئی پی میں مزید بہتری لائی جائے گی تاکہ وہاں کے عوام کو ترقیاتی ثمرات بروقت مل سکیں۔
آئین کے آرٹیکل 151 کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے واضح کیا کہ اشیائے ضرورت کی آزادانہ نقل و حمل یقینی بنانا وفاق کی آئینی ذمہ داری ہے؛ تاہم اگر اس آرٹیکل پر عمل درآمد ممکن نہیں تو پھر آئین کی اس شق کو ختم کر کے صوبوں کو اپنی آزادانہ پالیسی اختیار کرنے کی اجازت دی جانی چاہیے۔ پاسکو (PASCO) کے ساتھ طے شدہ معاہدے کے تحت ایک لاکھ 75 ہزار ٹن گندم مقررہ نرخ پر خیبر پختونخوا کو فراہم کی جائے گی اور وفاقی حکومت نے یقین دہانی کرائی ہے کہ گندم کی قیمت میں کوئی اضافہ نہیں کیا جائے گا۔ امن و امان کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اکتوبر 2025 سے اب تک پولیس، محکمہ انسدادِ دہشت گردی (CTD) اور اسپیشل برانچ کی استعداد کار بڑھانے پر 30 ارب روپے سے زائد خرچ کیے جا چکے ہیں۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ پولیس، سی ٹی ڈی اور اسپیشل برانچ کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اقدامات جاری رکھے جائیں گے تاکہ عوام کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔ صوبائی حکومت تعلیم، صحت اور امن و امان کو اپنی اولین ترجیحات میں شامل رکھے ہوئے ہے جبکہ احساس پروگرام، شیلٹر ہومز، زمرگ کور اور 'کوئی بھوکا نہ سوئے' جیسے فلاحی منصوبے کامیابی سے جاری ہیں۔ آخر میں انہوں نے صحت کارڈ پلس کو چیئرمین عمران خان کا انقلابی منصوبہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کے ذریعے خیبر پختونخوا کے ہر شہری کو مفت علاج کی سہولت مل رہی ہے۔