تہران / لاس اینجلس: فیفا ورلڈ کپ میں شریک ایرانی فٹبال ٹیم کو اہم میچ سے قبل ایک نئی مشکل کا سامنا کرنا پڑ گیا، جہاں امریکا نے ٹیم کو مقررہ وقت سے پہلے ملک میں داخلے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔
ایرانی فٹبال فیڈریشن نے دعویٰ کیا ہے کہ ٹیم پر عائد سفری پابندیوں کے باعث کھلاڑیوں کی تیاریاں متاثر ہو رہی ہیں اور اس معاملے کو عالمی فٹبال تنظیم فیفا کے سامنے اٹھایا جائے گا۔
فیڈریشن کے ترجمان کے مطابق حکام سے درخواست کی گئی تھی کہ ٹیم کو اپنے اگلے میچ سے دو روز قبل لاس اینجلس پہنچنے کی اجازت دی جائے تاکہ کھلاڑی بہتر انداز میں تیاری کر سکیں، تاہم یہ درخواست مسترد کر دی گئی۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ٹیم کے تربیتی اور سفری شیڈول کی تفصیلات کافی پہلے جمع کرا دی گئی تھیں اور تکنیکی وجوہات بھی فراہم کی گئی تھیں، لیکن اس کے باوجود نرمی نہیں برتی گئی۔
دوسری جانب وائٹ ہاؤس کی فیفا ٹاسک فورس کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اینڈریو جیولیانی نے کہا ہے کہ ایرانی حکام کو پہلے ہی آگاہ کر دیا گیا تھا کہ ٹیم کو میچ سے صرف ایک روز قبل امریکا آنے کی اجازت ہوگی اور مقابلے کے اختتام کے بعد اسی روز واپسی کرنا ہوگی۔
ایران کا اگلا میچ اتوار کو بیلجیئم کے خلاف شیڈول ہے، جبکہ ٹیم کو مصر کے خلاف بھی امریکا میں ہی میدان میں اترنا ہے۔
کھیل کے ماہرین کے مطابق اس صورتحال کے باعث ایرانی ٹیم کی تیاریوں اور کھلاڑیوں کی جسمانی و ذہنی آمادگی متاثر ہو سکتی ہے، جبکہ یہ معاملہ آئندہ دنوں میں کھیل اور سفارتی حلقوں میں مزید توجہ حاصل کر سکتا ہے۔