دنیا کے سب سے بڑے سوشل میڈیا پلیٹ فارم فیس بک نے اپنے مونیٹائزیشن نظام میں ایک دور رس اور انقلابی تبدیلی کا اعلان کیا ہے، جس کا مقصد کانٹینٹ کریئیٹرز کے لیے پلیٹ فارم سے آمدنی حاصل کرنے کے عمل کو انتہائی سادہ اور پائیدار بنانا ہے۔ اس اہم پیشرفت کے بعد پاکستان سمیت دنیا کے مختلف ممالک کے ڈیجیٹل کریئیٹرز، وی لاگرز اور فری لانسرز کے لیے فیس بک کے ذریعے ڈالرز میں ماہانہ خطیر آمدنی حاصل کرنے کے امکانات اور مواقع میں بے پناہ اضافہ ہو گیا ہے۔
اس سے قبل فیس بک پیج مونیٹائز کرنے کے لیے کریئیٹرز کو انتہائی سخت شرائط، بشمول ہزاروں فالوورز کی تعداد، کڑی واچ ٹائم کی حد اور دیگر پیچیدہ اہداف کو پورا کرنا پڑتا تھا۔ ان کڑی شرائط کے باعث نئے اور ابھرتے ہوئے کریئیٹرز کے لیے مونیٹائزیشن پروگرام تک رسائی حاصل کرنا ایک کٹھن مرحلہ تصور کیا جاتا تھا۔ تاہم، فیس بک کی نئی اور حالیہ اپڈیٹ کے تحت بعض اکاؤنٹس اور پیجز کے لیے اہلیت کے معیار کو غیر معمولی طور پر آسان کر دیا گیا ہے، جس کے تحت اگر کوئی پیج محض 28 دنوں کے اندر 3 لاکھ ویوز حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے، تو وہ مونیٹائزیشن کی اہلیت حاصل کر سکتا ہے۔
ڈیجیٹل میڈیا ماہرین کے مطابق، فیس بک کا یہ نیا ہدف ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ قابلِ حصول ہے، خصوصاً ان صارفین کے لیے جو باقاعدگی اور مستقل مزاجی کے ساتھ ویڈیوز اور شارٹ ریلز اپ لوڈ کرتے ہیں۔ تاہم، ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مونیٹائزیشن کے فعال ہونے کا انحصار صرف ویوز کی تعداد پر نہیں ہے، بلکہ کریئیٹرز کو فیس بک کی کمیونٹی گائیڈ لائنز، کاپی رائٹ قوانین اور پارٹنر مونیٹائزیشن پالیسیوں پر سو فیصد عمل درآمد یقینی بنانا ہو گا۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر اس آسان پالیسی کا اطلاق وسیع پیمانے پر جاری رہا، تو پاکستان میں ہزاروں نوجوانوں کے لیے آن لائن روزگار اور ملکی سطح پر قیمتی زرِ مبادلہ کے حصول میں یہ ایک کلیدی سنگِ میل ثابت ہو گا۔