حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
ملازمین کی تنخواہوں پر ٹیکس میں بھاری ریلیف کا فیصلہ، نیا بجٹ ملازمین کے لیے بڑی خوشی لے آیا! Home / پاکستان /

ملازمین کی تنخواہوں پر ٹیکس میں بھاری ریلیف کا فیصلہ، نیا بجٹ ملازمین کے لیے بڑی خوشی لے آیا!

ایڈیٹر - 11/06/2026
ملازمین کی تنخواہوں پر ٹیکس میں بھاری ریلیف کا فیصلہ، نیا بجٹ ملازمین کے لیے بڑی خوشی لے آیا!

پشاور : حکومت نے آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ میں مہنگائی کے پِسے ہوئے تنخواہ دار طبقے کو بڑا معاشی ریلیف دینے کے لیے ہوم ورک مکمل کر لیا ہے۔ باوثوق ذرائع کے مطابق بجٹ میں ماہانہ ایک لاکھ، دو لاکھ اور تین لاکھ روپے تک تنخواہ لینے والے ملازمین کے انکم ٹیکس میں واضح کمی کی تیاری کی جا رہی ہے۔ اس مقصد کے لیے موجودہ ٹیکس سلیبس کی تعداد کو 6 سے بڑھا کر 8 کرنے کی تجویز دی گئی ہے تاکہ ٹیکس کے بوجھ کو منصفانہ طریقے سے تقسیم کیا جا سکے۔

آئندہ بجٹ کی ان اہم تجاویز کے مطابق سالانہ 12 لاکھ، 22 لاکھ اور 32 لاکھ روپے تک تنخواہ وصول کرنے والے ملازمین کے ٹیکس سلیب میں انکم ٹیکس کی شرح کو بالترتیب 3 فیصد، 5 فیصد یا 10 فیصد تک کم کرنے کی سفارشات آئی ایم ایف (IMF) کو بھجوا دی گئی ہیں۔ دوسری جانب، چھٹی اور آخری سلیب، جس میں سالانہ 41 لاکھ روپے تنخواہ وصول کرنے والے افراد شامل ہیں، اس کی حد کو بڑھا کر 70 لاکھ روپے کرنے کی تجویز ہے۔ اس کے ساتھ ہی ایک نئی سلیب متعارف کرائی جائے گی جو 1 کروڑ روپے تک یا اس سے زائد سالانہ تنخواہ وصول کرنے والوں کے لیے ہوگی۔

رپورٹ کے مطابق، ایک کروڑ روپے یا اس سے زائد سالانہ تنخواہ حاصل کرنے والے افراد پر اس وقت 10 فیصد سرچارج بھی عائد ہے، جسے آئندہ بجٹ میں مکمل طور پر ختم کرنے کی ورکنگ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) نے تیار کر لی ہے۔ تاہم، اگر بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے اس سرچارج کو مکمل طور پر ختم کرنے کی منظوری نہ دی، تو متبادل پلان کے طور پر اسے کم کر کے 5 فیصد تک لانے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔ حکومت کی ان معاشی اصلاحات کا مقصد تنخواہ دار طبقے کی قوتِ خرید کو بہتر بنانا ہے۔

 

اہم تفاصیل 

  • ٹیکس سلیبز میں اضافہ: حکومت تنخواہ دار طبقے کے لیے انکم ٹیکس سلیبز کی تعداد 6 سے بڑھا کر 8 کر رہی ہے تاکہ ٹیکس کا بوجھ منصفانہ طور پر تقسیم کیا جا سکے۔
  • ٹیکس کی شرح میں کمی: آئندہ بجٹ میں سالانہ 12 لاکھ، 22 لاکھ اور 32 لاکھ روپے تک آمدنی والے ملازمین کے لیے انکم ٹیکس (Income Tax) کی شرح میں 3 فیصد، 5 فیصد یا 10 فیصد تک کمی کی تجویز دی گئی ہے۔
  • آخری ٹیکس سلیب میں تبدیلی: چھٹی اور آخری ٹیکس سلیب، جس میں سالانہ 41 لاکھ روپے تک کمانے والے افراد شامل ہیں، اس کی حد کو بڑھا کر 70 لاکھ روپے کیا جا رہا ہے۔
  • نیا ٹیکس سلیب متعارف: سالانہ 1 کروڑ روپے تک کی تنخواہ (Salary) پر ایک نیا ٹیکس سلیب متعارف کرایا جائے گا۔
  • سرچارج ختم کرنے کی تیاری: سالانہ 1 کروڑ روپے سے زائد کمانے والوں پر عائد 10 فیصد سرچارج کو ختم کرنے کے لیے ایف بی آر (FBR) نے ورکنگ مکمل کر لی ہے۔
  • آئی ایم ایف (IMF) کی شرط: اگر بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) نے سرچارج مکمل ختم کرنے کی منظوری نہ دی، تو اسے کم کر کے 5 فیصد کرنے کی متبادل تجویز بھی تیار ہے۔