حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
وفاقی بجٹ کی راہ ہموار، ترقیاتی پروگرام میں بڑی کٹوتی پر اتفاق Home / پاکستان /

وفاقی بجٹ کی راہ ہموار، ترقیاتی پروگرام میں بڑی کٹوتی پر اتفاق

ایڈیٹر - 10/06/2026
وفاقی بجٹ کی راہ ہموار، ترقیاتی پروگرام میں بڑی کٹوتی پر اتفاق

اسلام آباد: وفاقی حکومت اور اتحادی جماعتوں پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت کے درمیان اہم مشاورت کے بعد وفاقی اور صوبائی ترقیاتی پروگراموں میں نمایاں کٹوتیوں پر اتفاق کر لیا گیا ہے، جس سے آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ کی منظوری کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق ترقیاتی اخراجات میں کمی کے نتیجے میں مجموعی طور پر بچت حاصل کی جائے گی جسے ترجیحی اور اسٹریٹجک اہمیت کے منصوبوں پر خرچ کیا جائے گا۔ اس پیش رفت کے بعد وفاقی بجٹ 2026-27 کی منظوری کے عمل میں تیزی آ گئی ہے۔

صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے قومی اسمبلی کا اجلاس آج شام پانچ بجے جبکہ سینیٹ کا اجلاس شام چار بجے طلب کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ ان اجلاسوں میں بجٹ سے متعلق اہم فیصلے کیے جائیں گے۔

سرکاری ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال کے مجوزہ ترقیاتی پروگرام میں نمایاں کمی کی ہے، جبکہ بلوچستان کے علاوہ دیگر صوبوں سے بھی اپنے ترقیاتی اخراجات میں کمی کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔

ذرائع کے مطابق وفاقی سطح پر قابل تقسیم محاصل کے نظام میں تبدیلیوں پر بھی غور کیا جا رہا ہے، جس کے تحت صوبوں سے اضافی مالی گنجائش طلب کی گئی ہے۔ مختلف صوبوں کے لیے مجوزہ اہداف میں پنجاب، سندھ اور خیبرپختونخوا کے ترقیاتی بجٹ میں کمی کی تجویز شامل ہے، جبکہ بلوچستان کے ترقیاتی پروگرام کو نسبتاً مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔

سرکاری حکام کے مطابق وفاقی حکومت مجموعی مالی وسائل کو ازسرِنو ترتیب دے کر توانائی، پانی اور دفاعی نوعیت کے اہم منصوبوں پر زیادہ توجہ مرکوز کرنا چاہتی ہے۔ ان منصوبوں میں بڑے ڈیمز اور بنیادی ڈھانچے کی اسکیمیں بھی شامل ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں دفاعی اخراجات میں اضافے پر بھی غور کیا جا رہا ہے، جبکہ ترقیاتی اور غیر ترقیاتی اخراجات کے درمیان توازن برقرار رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

قومی اقتصادی کونسل کا اہم اجلاس آج وزیرِ اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت منعقد ہو رہا ہے، جس میں چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ اور دیگر اعلیٰ حکام شریک ہوں گے۔ اجلاس میں آئندہ مالی سال کے بجٹ کے اہم اہداف اور پالیسی فیصلوں کی منظوری دی جائے گی۔

ذرائع کے مطابق آئندہ بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں اضافے، ٹیکس اصلاحات، اور مختلف شعبوں میں ریلیف پیکجز پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔ حکومت کارپوریٹ سیکٹر، برآمدکنندگان اور تنخواہ دار طبقے کو ریلیف دینے کی مختلف تجاویز پر کام کر رہی ہے، تاہم ان فیصلوں کا انحصار مالی گنجائش اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں کی مشاورت سے مشروط ہوگا۔

مزید برآں نئے بجٹ میں ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے اور بعض شعبوں میں نئے ٹیکس اقدامات متعارف کرانے کی تجاویز بھی زیر غور ہیں۔ معاشی شرح نمو کا ہدف چار فیصد جبکہ مہنگائی کی شرح کے لیے سنگل ڈیجٹ کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

حکام کے مطابق آئندہ مالی سال کا وفاقی بجٹ قومی اقتصادی کونسل کی منظوری کے بعد وفاقی کابینہ کے خصوصی اجلاس میں پیش کیا جائے گا، جس کے بعد اسے قومی اسمبلی میں منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔