حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
بریکنگ نیوز: آئندہ مالی سال سے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی سہ ماہی قسط 18 ہزار روپے کرنے کا فیصلہ Home / پاکستان /

بریکنگ نیوز: آئندہ مالی سال سے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی سہ ماہی قسط 18 ہزار روپے کرنے کا فیصلہ

ایڈیٹر - 10/06/2026
بریکنگ نیوز: آئندہ مالی سال سے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی سہ ماہی قسط 18 ہزار روپے کرنے کا فیصلہ

اسلام آباد: آئندہ مالی سال سے بی آئی ایس پی قسط 18 ہزار روپے کرنے کا فیصلہ، جولائی سے ادائیگیاں صرف ڈیجیٹل والٹس سے ہوں گی

اسلام آباد : وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال سے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP) کے دائرہ کار کو مزید بہتر بناتے ہوئے مستحقین کی سہ ماہی قسط بڑھا کر 18 ہزار روپے کرنے کا اصولی فیصلہ کیا ہے۔ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی چیئرپرسن سینیٹر روبینہ خالد نے ایک اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اس فیصلے کی تصدیق کی۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ پروگرام ملک کے غریب اور پسماندہ خاندانوں کی عزتِ نفس اور معاشی خودمختاری کا ضامن ہے، اور اس کے خلاف کیا جانے والا کوئی بھی منفی پروپیگنڈہ سراسر قابلِ مذمت ہے۔

چیئرپرسن بی آئی ایس پی نے پروگرام میں شفافیت لانے کے لیے ایک بڑے اسٹرکچرل الٹ پھیر کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ رواں سال جولائی سے پروگرام کی تمام تر ادائیگیاں روایتی طریقوں کے بجائے صرف ڈیجیٹل والٹس کے ذریعے کی جائیں گی۔ اس اقدام کا مقصد نظام سے کرپشن، کٹوتیوں اور ایجنٹ مافیا کا مکمل خاتمہ کرنا ہے تاکہ امدادی رقم بلا تاخیر اور بغیر کسی کٹوتی کے براہِ راست مستحق خواتین تک پہنچ سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت ملک میں مہنگائی کے تناظر میں غریب طبقے کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے تمام ممکنہ وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔

 

اہم فیصلے اور تفصیلی تفصیلات

  • بڑی رقم کا اضافہ: حکومتِ پاکستان نے غریب اور مستحق طبقے کو ریلیف دینے کے لیے قسط میں بڑا اضافہ کر دیا ہے، جس سے لاکھوں خاندانوں کو مہنگائی کے دور میں مالی مدد ملے گی。
  • کیش لیس اکانومی اور رجسٹریشن (Registration): چیئرپرسن نے بتایا کہ نئے مالی سال کے بجٹ اور Prime Minister's Cashless Economy Strategy کے تحت تمام مالی فوائد شفاف ترین ڈیجیٹل نظام کے ذریعے دیے جائیں گے。
  • مفت موبائل سمز کی فراہمی: Digital Wallet Payments کو یقینی بنانے کے لیے 80 لاکھ سے زائد خواتین کو مفت موبائل سمز تقسیم کی جا چکی ہیں تاکہ رقم براہِ راست ان کے اکاؤنٹس میں پہنچے。
  • غیر قانونی کٹوتیوں کا خاتمہ: اب تک بینک ایجنٹس یا تھرڈ پارٹی کے ذریعے ہونے والی غیر قانونی کٹوتیاں ڈیجیٹل والٹ کے آنے سے مکمل طور پر ختم ہو جائیں گی، اور مستحقین کو ان کی مکمل رقم (Profit/Amount) ملے گی。
  • معاشی خودمختاری (Financial Investment): سینیٹر روبینہ خالد کا کہنا تھا کہ یہ ایک بہترین گورنمنٹ اسکیم (Government Scheme) ہے جو معاشی غریب طبقے کے تحفظ، صحتِ عامہ، اور بچوں کے تعلیمی وظائف کے لیے ریاستی فنڈز کی بہترین انویسٹمنٹ ثابت ہو رہی ہے。
  • عالمی سطح پر پذیرائی: بینظیر انکم سپورٹ پروگرام پاکستان کا سب سے بڑا سوشل پروٹیکشن ماڈل بن چکا ہے جسے بین الاقوامی مالیاتی اداروں (بشمول عالمی بینک) اور کئی ممالک نے شفافیت کی بنیاد پر سراہا ہے。