بیجنگ: چین نے مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدہ صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تمام متعلقہ فریقوں پر زور دیا ہے کہ وہ تنازعات کے حل کے لیے فوجی راستے کے بجائے سفارتی اور سیاسی ذرائع اختیار کریں۔
چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے اپنے بیان میں کہا کہ گزشتہ کئی ماہ سے جاری امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی کے اثرات پورے خلیجی خطے اور مشرقِ وسطیٰ پر مرتب ہو رہے ہیں، جس سے علاقائی استحکام کو سنگین چیلنجز کا سامنا ہے۔
ترجمان کے مطابق اختلافات اور تنازعات کا پائیدار حل طاقت کے استعمال یا عسکری کارروائیوں میں نہیں بلکہ مذاکرات اور باہمی افہام و تفہیم میں پوشیدہ ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ موجودہ حالات میں کسی بھی نئی فوجی کشیدگی سے صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے۔
چینی وزارتِ خارجہ کا کہنا تھا کہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری رابطوں اور مذاکراتی عمل کے حساس مرحلے میں ایسے اقدامات سے گریز کیا جانا چاہیے جو کشیدگی میں اضافے کا باعث بنیں۔
بیان میں تمام فریقوں سے تحمل، ذمہ داری اور دانشمندی کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا گیا کہ دشمنانہ اقدامات کو روکنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ چین نے اس بات پر زور دیا کہ خطے میں امن و استحکام کے لیے سیاسی مکالمے اور سفارتی کوششوں کو ترجیح دی جانی چاہیے۔
بیجنگ کا مؤقف ہے کہ تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات ہی واحد مؤثر راستہ ہیں، جبکہ طاقت کے استعمال سے مسائل کے حل کے بجائے مزید پیچیدگیاں پیدا ہونے کا خدشہ رہتا ہے۔