تہران: فیفا ورلڈ کپ 2026 کے آغاز سے محض چند روز قبل ایران کی فٹبال فیڈریشن نے دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی شائقین کے لیے مختص ٹکٹوں کا کوٹہ واپس لے لیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں قومی ٹیم کے حامیوں کو میچز دیکھنے میں مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔
ایرانی فٹبال حکام کے مطابق عالمی فٹبال قوانین کے تحت ٹورنامنٹ میں شریک ہر ملک کی فیڈریشن کو اپنے میچز کے لیے اسٹیڈیم کی مجموعی گنجائش کا ایک مخصوص حصہ فراہم کیا جاتا ہے تاکہ وہ اپنے شائقین میں تقسیم کر سکے۔ تاہم ایران کا مؤقف ہے کہ اسے دیا گیا ٹکٹ کوٹہ ٹورنامنٹ شروع ہونے سے قبل واپس لے لیا گیا۔
فیڈریشن نے اپنے بیان میں اس پیش رفت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ کھیلوں کے عالمی مقابلوں پر غیر کھیلوں عوامل اثرانداز ہو رہے ہیں۔ ایرانی حکام کا الزام ہے کہ بعض اقدامات کے ذریعے ان کے شائقین کی اسٹیڈیموں تک رسائی محدود کی جا رہی ہے۔
دوسری جانب ٹکٹوں کی فروخت اور تقسیم کے معاملات پر مکمل اختیار رکھنے والے فیفا کی جانب سے اس معاملے پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔
رواں سال 12 جون سے شروع ہونے والے عالمی کپ میں ایران اپنے گروپ مرحلے کے تمام مقابلے امریکا میں کھیلے گا۔ ایرانی ٹیم 15 جون کو نیوزی لینڈ کے خلاف مہم کا آغاز کرے گی، جبکہ بعد ازاں بیلجیئم اور مصر کے خلاف بھی میدان میں اترے گی۔
ایرانی فٹبال فیڈریشن نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ اس کے بعض انتظامی عہدیداروں کو امریکی ویزے جاری نہیں کیے گئے، جس سے ٹیم کے انتظامی معاملات متاثر ہوئے ہیں۔ اسی وجہ سے ٹیم نے امریکا میں تربیتی کیمپ لگانے کے ابتدائی منصوبے میں تبدیلی کرتے ہوئے اپنا بیس میکسیکو کے سرحدی شہر تیخوانا منتقل کر دیا۔
ادھر امریکی امیگریشن پالیسیوں کے حوالے سے دیگر واقعات بھی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔ مختلف رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ بعض غیر ملکی کھیلوں کے عہدیداروں اور وفود کو امریکا میں داخلے کے دوران مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
فیئر نیٹ ورک کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر پیارا پوار نے اس صورتحال پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات نے یہ بحث چھیڑ دی ہے کہ عالمی فٹبال ایونٹ کے انتظامی فیصلوں پر کس حد تک امیگریشن پالیسیوں کا اثر پڑ رہا ہے۔
یاد رہے کہ فیفا کے صدر جیانی انفانٹینو ماضی میں اس مؤقف کا اظہار کر چکے ہیں کہ ورلڈ کپ میں شرکت کے لیے کوالیفائی کرنے والی تمام ٹیموں، ان کے شائقین اور سرکاری وفود کو میزبان ملک میں داخلے کی سہولت ملنی چاہیے تاکہ عالمی کھیلوں کے اس بڑے ایونٹ کی روح برقرار رہ سکے۔