لندن: برطانیہ مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیل کے متنازع آبادکاری منصوبے کے خلاف سخت اقدامات پر غور کر رہا ہے، جبکہ حکمران جماعت لیبر پارٹی کے درجنوں ارکانِ پارلیمنٹ نے بھی حکومت پر دباؤ بڑھاتے ہوئے اسرائیلی بستیوں سے متعلق تجارتی سرگرمیوں کے خاتمے کا مطالبہ کر دیا ہے۔
برطانوی میڈیا رپورٹس کے مطابق لندن اور اس کے مغربی اتحادی آنے والے دنوں میں اسرائیل کے خلاف پابندیوں کے ایک نئے پیکیج کا اعلان کر سکتے ہیں۔ ان اقدامات کا بنیادی مقصد مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں متنازع آبادکاری منصوبوں کی توسیع روکنا اور ان میں سرمایہ کاری یا عملی تعاون کی حوصلہ شکنی کرنا ہے۔
ذرائع کے مطابق برطانیہ، فرانس، آسٹریلیا اور دیگر اتحادی ممالک پہلے ہی اسرائیلی آبادکاروں کے تشدد اور نئے تعمیراتی منصوبوں پر شدید تحفظات کا اظہار کر چکے ہیں۔ ان ممالک نے نجی اور بین الاقوامی کمپنیوں کو بھی متنبہ کیا ہے کہ وہ ایسے منصوبوں میں شمولیت سے گریز کریں جو مقبوضہ علاقوں کی حیثیت کو مزید متنازع بنا سکتے ہیں۔
حالیہ دنوں میں اسرائیلی حکام نے مقبوضہ علاقوں میں ہزاروں نئے رہائشی یونٹس کی تعمیر کے لیے پیش رفت کی ہے، جس پر عالمی سطح پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ناقدین کے مطابق اس نوعیت کے منصوبے مستقبل میں آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے امکانات کو مزید محدود کر سکتے ہیں۔
ادھر برطانوی پارلیمنٹ میں لیبر پارٹی کے 137 ارکان نے وزیرِ داخلہ اور متعلقہ حکومتی حکام کو مشترکہ خط ارسال کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ فلسطینیوں کے خلاف بڑھتی ہوئی کارروائیوں، جبری بے دخلیوں اور آبادکاروں کے تشدد کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
خط پر دستخط کرنے والوں میں متعدد سینئر سیاست دان اور پارلیمانی شخصیات شامل ہیں، جنہوں نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ مقبوضہ علاقوں میں جاری سرگرمیاں بین الاقوامی قوانین اور دو ریاستی حل کے تصور کے منافی ہیں۔
ارکانِ پارلیمنٹ نے برطانوی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ اسرائیلی بستیوں سے آنے والی مصنوعات کی درآمد پر پابندی سمیت ایسے اقدامات کرے جو بین الاقوامی قانون کے احترام کو یقینی بنا سکیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یورپ کے بعض دیگر ممالک بھی اسی نوعیت کے قانونی اور تجارتی اقدامات پر غور کر رہے ہیں۔
سیاسی ذرائع کے مطابق زیر غور پابندیوں میں ان کمپنیوں اور اداروں کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے جو متنازع آبادکاری منصوبوں میں سرمایہ کاری، تعمیرات یا دیگر معاون سرگرمیوں میں شریک ہوں۔ اس کے علاوہ ایسے افراد اور تنظیموں پر بھی مزید پابندیاں عائد کیے جانے کا امکان ہے جن پر آبادکاروں کے تشدد کی حمایت کا الزام ہے۔
دوسری جانب فرانس نے بھی عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ فلسطینیوں کو ان کی زمینوں سے بے دخل کرنے یا آبادکاری کے عمل میں معاونت کرنے والے عناصر کے خلاف سخت اقدامات کیے جائیں۔
ادھر غزہ میں جنگ بندی کی کوششیں بھی جاری ہیں اور مختلف علاقائی فریقوں کے درمیان سفارتی رابطوں کا سلسلہ برقرار ہے۔ تاہم مبصرین کے مطابق جب تک زمینی صورتحال میں بہتری نہیں آتی، خطے میں پائیدار امن کے امکانات محدود رہیں گے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر برطانیہ اور اس کے اتحادی واقعی نئی پابندیاں عائد کرتے ہیں تو یہ اسرائیل کی آبادکاری پالیسیوں کے خلاف مغربی دنیا کے سخت ترین سفارتی اقدامات میں شمار ہو سکتا ہے۔