تہران: ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے واضح کیا ہے کہ ان کا ملک موجودہ کشیدہ حالات میں نہ اپنی دفاعی پوزیشن سے دستبردار ہوگا اور نہ ہی سفارتی رابطوں کا سلسلہ منقطع کرے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ قومی مفادات کے تحفظ کے لیے دفاعی تیاری اور سفارت کاری دونوں یکساں اہمیت رکھتے ہیں۔
سماجی رابطے کے پلیٹ فارم "ایکس" پر جاری اپنے پیغام میں ایرانی صدر نے کہا کہ ریاست کی اولین ذمہ داری عوام کے جان و مال، قومی سلامتی اور ملکی استحکام کا تحفظ ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ایران اپنے قانونی اور قومی حقوق کے دفاع کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا اور کسی بھی دباؤ یا خطرے کے سامنے جھکنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
مسعود پزشکیان نے کہا کہ سفارت کاری اور دفاعی صلاحیت ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں اور قومی طاقت کے دو بنیادی ستون ہیں۔ ان کے بقول تہران نے ہمیشہ مذاکرات کے دروازے کھلے رکھے ہیں، تاہم اس کے ساتھ ساتھ اپنی دفاعی صلاحیتوں کو بھی پوری طرح برقرار رکھا ہوا ہے۔
ایرانی صدر کا یہ بیان ایسے موقع پر سامنے آیا ہے جب خطے میں ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے۔ حالیہ دنوں میں دونوں ممالک کے درمیان فضائی حملوں اور جوابی کارروائیوں کے تبادلوں نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
علاقائی ذرائع کے مطابق لبنان کے دارالحکومت بیروت کے جنوبی علاقوں میں ہونے والی اسرائیلی کارروائیوں کے بعد کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا، جس کے نتیجے میں جانی نقصان اور متعدد افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات سامنے آئیں۔
دوسری جانب ایران نے بھی مختلف اہداف پر میزائل حملے کیے ہیں اور اسرائیل پر سابقہ جنگ بندی سمجھوتوں کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا ہے۔ ایرانی حکام کا مؤقف ہے کہ ملک کی دفاعی اور سفارتی حکمت عملی بیک وقت آگے بڑھ رہی ہے تاکہ قومی مفادات، خودمختاری اور وقار کا ہر قیمت پر تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
صدر مسعود پزشکیان نے اپنے بیان میں قومی یکجہتی اور عوامی عزم پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی قوم اتحاد، دانشمندی اور استقامت کے ذریعے موجودہ چیلنجز کا کامیابی سے مقابلہ کرے گی اور ملک کو درپیش مشکلات پر قابو پا لے گی۔
سیاسی مبصرین کے مطابق ایرانی صدر کا یہ مؤقف اس بات کا اشارہ ہے کہ تہران ایک جانب خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہے، جبکہ دوسری جانب سفارتی ذرائع سے تنازعات کے حل کے امکانات بھی برقرار رکھنا چاہتا ہے۔