حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
پشاور ہائیکورٹ کا بڑا فیصلہ؛ کے پی کے 24 ہسپتالوں کی آؤٹ سورسنگ کے خلاف دائر تمام درخواستیں مسترد Home / پاکستان /

پشاور ہائیکورٹ کا بڑا فیصلہ؛ کے پی کے 24 ہسپتالوں کی آؤٹ سورسنگ کے خلاف دائر تمام درخواستیں مسترد

ایڈیٹر - 09/06/2026
پشاور ہائیکورٹ کا بڑا فیصلہ؛ کے پی کے 24 ہسپتالوں کی آؤٹ سورسنگ کے خلاف دائر تمام درخواستیں مسترد

پشاور ہائیکورٹ کا تاریخی فیصلہ: خیبر پختونخوا کے 24 سرکاری ہسپتالوں کی آؤٹ سورسنگ کے خلاف درخواستیں مسترد، عدالتی مداخلت سے انکار

پشاور : پشاور ہائیکورٹ نے خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے صوبے کے 24 سرکاری ہسپتالوں کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (PPP) کے تحت آؤٹ سورس کرنے کے اقدام کو برقرار رکھتے ہوئے اس کے خلاف دائر تمام رٹ درخواستیں مسترد کر دی ہیں۔ پشاور ہائیکورٹ کے معزز جج جسٹس اعجاز انور اور جسٹس فرح جمشید پر مشتمل دو رکنی بینچ نے درخواستوں پر سماعت مکمل ہونے کے بعد 24 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کیا، جسے جسٹس اعجاز انور نے تحریر کیا ہے۔ درخواست گزاروں، جن میں متعدد شہری اور وکلاء شامل تھے، نے خیبر پختونخوا ہیلتھ فاؤنڈیشن کی جانب سے نجی شعبے کے ذریعے انتظامی آؤٹ سورسنگ کے لیے جاری کیے گئے اظہارِ دلچسپی (EOI) کو عدالت میں چیلنج کیا تھا۔

تفصیلی فیصلے میں پشاور ہائیکورٹ نے سپریم کورٹ کے متعدد فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ اعلیٰ عدالتیں ہمیشہ سے یہ موقف رکھتی آئی ہیں کہ حکومت کے پالیسی معاملات میں مداخلت نہیں کی جا سکتی۔ پالیسی سازی میں پیچیدہ عوامل، تکنیکی مہارت اور وسائل کے انتظام جیسے امور شامل ہوتے ہیں جو خالصتاً حکومت کا خصوصی اختیار ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ ترقیاتی منصوبوں کی ترجیحات کا تعین کرنا اور پالیسی بنانا عدلیہ کا کام نہیں ہے، بلکہ عدلیہ کا کردار قانون کی نگہبانی تک محدود ہے۔ جب تک کوئی حکومتی پالیسی قانونی حدود اور آئین کے خلاف نہ ہو، آئینی عدالتیں اپنے رٹ اختیار کے تحت اس میں مداخلت نہیں کر سکتیں۔

دورانِ سماعت خیبر پختونخوا حکومت اور ہیلتھ فاؤنڈیشن کے وکلاء نے عدالت کو مطمئن کرتے ہوئے بتایا کہ یہ ہسپتالوں کی نجکاری نہیں ہے بلکہ صرف انتظامی امور کی آؤٹ سورسنگ کی جا رہی ہے، جبکہ ہسپتالوں کی ملکیت اور نگران ادارہ صوبائی حکومت ہی رہے گی۔ انہوں نے مزید یقین دہانی کرائی کہ مریضوں کو سرکاری نرخوں پر مفت علاج کی سہولت بدستور فراہم کی جائے گی۔ پشاور ہائیکورٹ کے بینچ نے اپنے فیصلے میں مزید لکھا کہ ہسپتالوں کی آؤٹ سورسنگ کے نتائج کیا ہوں گے اور آیا اس سے عوام کو بہتر طبی سہولیات ملیں گی یا نہیں، یہ معاملہ صوبائی حکومت کے دائرہ اختیار اور صوبائی طرزِ حکمرانی سے متعلق ہے۔ درخواست گزار بنیادی، آئینی یا قانونی حقوق کی خلاف ورزی ثابت کرنے میں ناکام رہے ہیں اور نہ ہی حکومتی فیصلے میں کسی واضح امتیاز یا من مانی کا ثبوت پیش کیا گیا ہے، جس کی بنیاد پر عدالت اس انتظامی عمل میں مداخلت کرے۔