میامی: فٹبال ورلڈ کپ 2026 کے آغاز سے قبل ایک غیر متوقع تنازع سامنے آ گیا ہے، جہاں فیفا کے نامزد صومالی ریفری عمر عبدالقادر آرتان کو امریکا میں داخلے کی اجازت نہ مل سکی اور انہیں میامی ایئرپورٹ سے واپس بھیج دیا گیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق عمر عبدالقادر آرتان ورلڈ کپ کے سلسلے میں اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں انجام دینے کے لیے امریکا پہنچے تھے، تاہم میامی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر امیگریشن حکام نے انہیں ملک میں داخل ہونے سے روک دیا۔ بعد ازاں انہیں ترکیہ جانے والی پرواز کے ذریعے واپس روانہ کر دیا گیا۔
اس واقعے نے صومالی سفارتی حلقوں میں تشویش پیدا کر دی ہے، کیونکہ عمر آرتان کو ان کی نمایاں کارکردگی کے اعتراف میں 2025 کا بہترین افریقی ریفری قرار دیا گیا تھا۔ صومالی حکومت نے عالمی ایونٹ میں شرکت کی اہمیت کے پیش نظر انہیں سفارتی پاسپورٹ بھی جاری کیا تھا، تاہم اس کے باوجود انہیں امریکا میں داخلے کی اجازت نہیں دی گئی۔
یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب 2026 فیفا ورلڈ کپ کا آغاز قریب ہے۔ تاریخ میں پہلی بار یہ عالمی ٹورنامنٹ مشترکہ طور پر امریکا، میکسیکو اور کنیڈا میں منعقد ہو رہا ہے۔
ورلڈ کپ 2026 ایک نئے فارمیٹ کے تحت کھیلا جائے گا، جس میں پہلی مرتبہ 48 ٹیمیں حصہ لیں گی۔ ٹیموں کو 12 گروپس میں تقسیم کیا گیا ہے اور ٹورنامنٹ کے دوران مجموعی طور پر 104 میچز کھیلے جائیں گے، جو ورلڈ کپ کی تاریخ میں سب سے زیادہ تعداد ہے۔
کھیلوں کے مبصرین کا کہنا ہے کہ فیفا کے نامزد اور افریقہ کے اعلیٰ ریفری کے ساتھ پیش آنے والا یہ واقعہ کئی سوالات کو جنم دے رہا ہے۔ ان کے مطابق ورلڈ کپ جیسے عالمی ایونٹ سے قبل اس نوعیت کے واقعات نہ صرف امیگریشن پالیسیوں بلکہ بین الاقوامی کھیلوں کے انتظامی امور پر بھی بحث کا باعث بن سکتے ہیں۔
تاحال امریکی حکام یا فیفا کی جانب سے اس معاملے پر کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی، تاہم فٹبال حلقوں میں اس واقعے پر گہری تشویش پائی جا رہی ہے۔