حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
"بی آئی ایس پی لوگوں کو بھکاری نہیں بنا رہا، یہ سفید پوشوں کی مدد کا عالمی سطح کا پروگرام ہے" Home / پاکستان /

"بی آئی ایس پی لوگوں کو بھکاری نہیں بنا رہا، یہ سفید پوشوں کی مدد کا عالمی سطح کا پروگرام ہے"

ایڈیٹر - 09/06/2026

بی آئی ایس پی بھکاری بنانے کا پروگرام نہیں بلکہ سفید پوشوں کا سہارا ہے، جولائی 2026 سے ادائیگیاں صرف ڈیجیٹل والٹ سے ہوں گی: سینیٹر روبینہ خالد

اسلام آباد: بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کی چیئرپرسن سینیٹر روبینہ خالد نے پروگرام کے خلاف پھیلائی جانے والی مِس انفارمیشن اور منفی تاثر کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ وفاق میں ایک اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بی آئی ایس پی دنیا کا سب سے بڑا غربت کے خاتمے کا پروگرام ہے، جس کا مقصد غریبوں کی تذلیل کرنا نہیں بلکہ انہیں معاشی تحفظ فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے ناقدین کو تنبیہ کی کہ وہ اپنے چھوٹے سیاسی مقاصد کے لیے اس قومی اور بین الاقوامی ساکھ کے حامل پروگرام کو نشانہ بنانے سے گریز کریں۔

چیئرپرسن بی آئی ایس پی نے واضح کیا کہ یہ پروگرام ملک کے ایک کروڑ سے زائد محنت کش اور سفید پوش خاندانوں کی کفالت کر رہا ہے۔ انہوں نے گزشتہ حکومت کی جانب سے پروگرام کا نام تبدیل کرنے کی کوششوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس اقدام کی بین الاقوامی سطح پر تقلید کی جا رہی ہے، اور صدر و وزیر اعظم کا اس پر مکمل اعتماد ہے۔ سینیٹر روبینہ خالد نے پروگرام کے دائرہ کار پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ یہ صرف مالی معاونت تک محدود نہیں، بلکہ اس کے تعلیمی وظائف کے تحت ایک کروڑ 20 لاکھ بچے اسکول جا رہے ہیں، جبکہ اس نظام نے پاکستانی خواتین کو سماجی وقار اور شناختی کارڈز کے ذریعے منفرد پہچان دی ہے۔ نادرا کے بعد ملک کا دوسرا سب سے بڑا ڈیٹا بیس بی آئی ایس پی کے پاس ہے، جسے تمام صوبے اپنی سبسڈیز دینے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

پروگرام میں شفافیت اور جدید اصلاحات کا ذکر کرتے ہوئے سینیٹر روبینہ خالد نے اعلان کیا کہ جولائی 2026 سے مستحقین کو مالی امداد کی تمام تر ادائیگیاں صرف ڈیجیٹل والٹ کے جدید نظام کے ذریعے منتقل کی جائیں گی۔ اس کے علاوہ 'ری سرٹیفیکیشن' کا خودکار طریقہ کار بھی متعارف کروا دیا گیا ہے، جس کے تحت مسلسل 3 سال تک مالی معاونت حاصل کرنے والے خاندانوں کی معاشی حالت کی دوبارہ جانچ پڑتال کی جائے گی۔ اگر ان کے حالات بہتر پائے گئے تو انہیں پروگرام سے بتدریج نکال کر نئے اور حقیقی مستحقین کو شامل کیا جائے گا۔ انہوں نے تمام اسٹیک ہولڈرز سے پروگرام کو مزید بہتر بنانے کے لیے مثبت تجاویز بھی مانگیں۔

 

بی آئی ایس پی پریس کانفرنس کی اہم تفصیلات:

  • ڈیجیٹل والٹ کا آغاز: حکومت نے شفافیت برقرار رکھنے کے لیے ڈیجیٹل والٹ نظام متعارف کروا دیا ہے، اور جولائی 2026 سے تمام ادائیگیاں اسی والٹ کے ذریعے منتقل ہوں گی۔
  • ری سرٹیفیکیشن (Registration): تین سال تک مالی معاونت حاصل کرنے والے خاندانوں کی دوبارہ جانچ پڑتال کی جائے گی تاکہ دیکھا جا سکے کہ ان کے مالی حالات میں کتنی بہتری آئی ہے۔
  • ایک کروڑ خاندانوں کی کفالت: اس وقت ملک بھر میں 1 کروڑ سے زائد مستحق خاندان اس بڑی Government Scheme سے براہ راست فائدہ اٹھا رہے ہیں۔
  • بچوں کے لیے تعلیمی پروگرام: بی آئی ایس پی صرف نقد رقم ہی فراہم نہیں کرتا بلکہ اس کے تعلیمی نیٹ ورک کے تحت 1 کروڑ 20 لاکھ بچے اسکول جا رہے ہیں۔
  • بڑا ڈیٹا بیس: نادرا (NADRA) کے بعد پاکستان کا دوسرا سب سے بڑا اور مستند ڈیٹا بیس بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے پاس موجود ہے، جسے تمام صوبے سبسڈی دینے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
  • عوامی سرمایہ کاری (Investment): یہ پروگرام غریب عوام کے معیار زندگی کو بہتر بنانے کے لیے حکومت کی سب سے بڑی طویل مدتی Investment ہے۔