بی آئی ایس پی بھکاری بنانے کا پروگرام نہیں بلکہ سفید پوشوں کا سہارا ہے، جولائی 2026 سے ادائیگیاں صرف ڈیجیٹل والٹ سے ہوں گی: سینیٹر روبینہ خالد
اسلام آباد: بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کی چیئرپرسن سینیٹر روبینہ خالد نے پروگرام کے خلاف پھیلائی جانے والی مِس انفارمیشن اور منفی تاثر کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ وفاق میں ایک اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بی آئی ایس پی دنیا کا سب سے بڑا غربت کے خاتمے کا پروگرام ہے، جس کا مقصد غریبوں کی تذلیل کرنا نہیں بلکہ انہیں معاشی تحفظ فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے ناقدین کو تنبیہ کی کہ وہ اپنے چھوٹے سیاسی مقاصد کے لیے اس قومی اور بین الاقوامی ساکھ کے حامل پروگرام کو نشانہ بنانے سے گریز کریں۔
چیئرپرسن بی آئی ایس پی نے واضح کیا کہ یہ پروگرام ملک کے ایک کروڑ سے زائد محنت کش اور سفید پوش خاندانوں کی کفالت کر رہا ہے۔ انہوں نے گزشتہ حکومت کی جانب سے پروگرام کا نام تبدیل کرنے کی کوششوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس اقدام کی بین الاقوامی سطح پر تقلید کی جا رہی ہے، اور صدر و وزیر اعظم کا اس پر مکمل اعتماد ہے۔ سینیٹر روبینہ خالد نے پروگرام کے دائرہ کار پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ یہ صرف مالی معاونت تک محدود نہیں، بلکہ اس کے تعلیمی وظائف کے تحت ایک کروڑ 20 لاکھ بچے اسکول جا رہے ہیں، جبکہ اس نظام نے پاکستانی خواتین کو سماجی وقار اور شناختی کارڈز کے ذریعے منفرد پہچان دی ہے۔ نادرا کے بعد ملک کا دوسرا سب سے بڑا ڈیٹا بیس بی آئی ایس پی کے پاس ہے، جسے تمام صوبے اپنی سبسڈیز دینے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
پروگرام میں شفافیت اور جدید اصلاحات کا ذکر کرتے ہوئے سینیٹر روبینہ خالد نے اعلان کیا کہ جولائی 2026 سے مستحقین کو مالی امداد کی تمام تر ادائیگیاں صرف ڈیجیٹل والٹ کے جدید نظام کے ذریعے منتقل کی جائیں گی۔ اس کے علاوہ 'ری سرٹیفیکیشن' کا خودکار طریقہ کار بھی متعارف کروا دیا گیا ہے، جس کے تحت مسلسل 3 سال تک مالی معاونت حاصل کرنے والے خاندانوں کی معاشی حالت کی دوبارہ جانچ پڑتال کی جائے گی۔ اگر ان کے حالات بہتر پائے گئے تو انہیں پروگرام سے بتدریج نکال کر نئے اور حقیقی مستحقین کو شامل کیا جائے گا۔ انہوں نے تمام اسٹیک ہولڈرز سے پروگرام کو مزید بہتر بنانے کے لیے مثبت تجاویز بھی مانگیں۔