تہران: ایران نے امریکا کے ساتھ جاری سفارتی مذاکرات میں پیش رفت کی راہ میں واشنگٹن کے متضاد اور مسلسل تبدیل ہوتے مؤقف کو بڑی رکاوٹ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی حکام کے مختلف بیانات مذاکراتی عمل کو پیچیدہ اور غیر یقینی بنا رہے ہیں۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ایک بین الاقوامی نشریاتی ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے بتایا کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان رابطے اور پیغامات کا تبادلہ پاکستانی ثالثوں کے ذریعے جاری ہے۔ ان کے مطابق مذاکرات کا سب سے بڑا مسئلہ امریکی انتظامیہ کی جانب سے بار بار مؤقف میں تبدیلی اور مختلف حکام کے متضاد بیانات ہیں، جس سے اعتماد سازی کا عمل متاثر ہو رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ مذاکرات میں کئی اہم معاملات زیر بحث ہیں، تاہم ایران کے لیے بنیادی نکتہ اپنے قانونی اور بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حقوق کا تحفظ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران بین الاقوامی معاہدوں کے تحت پرامن جوہری پروگرام اور یورینیم افزودگی کے حق کو تسلیم کیے جانے کا مطالبہ کر رہا ہے۔
اسماعیل بقائی نے منجمد ایرانی اثاثوں کے معاملے پر بھی امریکا کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن اب تک اس حوالے سے کسی مثبت پیش رفت کے لیے آمادہ نظر نہیں آتا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ بیرون ملک موجود اربوں ڈالر مالیت کے ایرانی اثاثے بحال کیے جائیں اور انہیں ایرانی عوام کی فلاح و بہبود کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دی جائے۔
ایرانی ترجمان نے زور دیا کہ پابندیوں کے خاتمے اور منجمد اثاثوں کی واپسی کے لیے امریکا کو عملی اقدامات کرنا ہوں گے، صرف بیانات اور وعدے کافی نہیں ہوں گے۔
دوسری جانب امریکی میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ واشنگٹن ایرانی اثاثوں کے ممکنہ استعمال سے متعلق مختلف تجاویز کا جائزہ لے رہا ہے۔ ان تجاویز میں خطے میں مستقبل کے ممکنہ نقصانات کے ازالے اور بعض خلیجی ممالک کی تعمیر نو کے لیے فنڈز کے استعمال کے امکانات بھی زیر غور ہیں۔
اسماعیل بقائی نے امریکا پر جنگ بندی کے حوالے سے اپنے وعدوں کی پاسداری نہ کرنے کا الزام بھی عائد کیا اور کہا کہ امریکی پالیسیوں نے خطے کی صورتحال کو مزید حساس اور غیر مستحکم بنا دیا ہے۔ ان کے مطابق ایران کی مسلح افواج کسی بھی ممکنہ جارحیت کا مؤثر اور بھرپور جواب دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔
ادھر امریکی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ خلیجی خطے میں دفاعی تیاریوں کو مزید مضبوط بنایا جا رہا ہے اور حالیہ دنوں میں دو ایرانی ڈرونز کو بھی تباہ کیا گیا ہے، جنہیں بحری جہاز رانی کے لیے خطرہ تصور کیا جا رہا تھا۔
سیاسی مبصرین کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان جاری مذاکرات ایک نازک مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں، جہاں اعتماد کے فقدان، پابندیوں، جوہری پروگرام اور منجمد اثاثوں جیسے مسائل کسی بھی ممکنہ معاہدے کی راہ میں اہم چیلنج بنے ہوئے ہیں۔