واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ ممکنہ جوہری اور سکیورٹی معاہدے کے حوالے سے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ تہران پر عائد پابندیوں میں نرمی یا منجمد اثاثوں کی بحالی کسی حتمی اور جامع معاہدے سے قبل ممکن نہیں ہوگی۔
ایک امریکی ٹی وی پروگرام کو انٹرویو دیتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان جاری سفارتی رابطے ایک اہم مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں اور جنگ بندی یا کشیدگی کے خاتمے کے امکانات روشن ہیں، تاہم امریکا کسی بھی معاہدے کے بدلے ایران سے مزید ضمانتیں اور عملی اقدامات چاہتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر دونوں ممالک کے درمیان معاہدہ طے پا جاتا ہے تو ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخائر کو ختم کرنے یا ملک سے باہر منتقل کرنے کے لیے مشترکہ اقدامات کیے جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا اپنی قومی سلامتی کو ہر صورت یقینی بنائے گا اور کسی بھی خطرے کو برداشت نہیں کرے گا۔
صدر ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر مذاکرات کامیاب نہ ہوئے تو امریکا ایران کی عسکری صلاحیتوں کو محدود کرنے کے لیے سخت اقدامات اختیار کرے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ جدید نگرانی اور انٹیلی جنس نظام کے باعث امریکا ایران کی سرگرمیوں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔
امریکی صدر کے مطابق خطے میں امریکی فوجی موجودگی برقرار رہے گی اور ہزاروں امریکی اہلکار مختلف مشنز پر تعینات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ تعیناتی اس وقت تک جاری رہے گی جب تک امریکا اپنے تزویراتی مقاصد حاصل نہیں کر لیتا۔
ایرانی قیادت کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ موجودہ ایرانی قیادت مذاکرات کے حوالے سے نسبتاً حقیقت پسندانہ رویہ اختیار کر رہی ہے۔ انہوں نے عندیہ دیا کہ مناسب حالات میں وہ ایرانی قیادت کے ساتھ براہِ راست بات چیت کے لیے بھی تیار ہیں۔
صدر ٹرمپ نے سابقہ جوہری معاہدے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مستقبل میں ہونے والا کوئی بھی معاہدہ ماضی کے معاہدوں سے مختلف اور زیادہ مؤثر ہوگا۔ ان کے مطابق ایران کے منجمد اثاثوں کی بحالی کا معاملہ بھی صرف مکمل معاہدے کے بعد زیر غور آئے گا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ حالیہ کشیدگی کے دوران ایران کی دفاعی صلاحیتوں کو نقصان پہنچا ہے، تاہم تہران اب بھی میزائل اور ڈرون پروگرام کی صلاحیت رکھتا ہے، جس پر امریکا کی گہری نظر ہے۔
دوسری جانب ایران کے اعلیٰ سطحی حکام نے مطالبہ کیا ہے کہ امریکا ایران کے منجمد اثاثے واپس کرے اور اقتصادی دباؤ میں کمی لائے۔ ایرانی قیادت کا مؤقف ہے کہ اعتماد سازی کے لیے مالی پابندیوں اور اثاثوں کے معاملے کو حل کرنا ضروری ہے۔
ادھر امریکی وزارت خزانہ کی جانب سے بھی منجمد ایرانی اثاثوں کے مستقبل اور خطے میں حالیہ تنازعات سے ہونے والے مالی نقصانات کے تخمینے پر غور جاری ہے۔ ذرائع کے مطابق اس سلسلے میں مختلف تجاویز زیرِ مطالعہ ہیں۔
سیاسی و سفارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات ایک اہم موڑ پر پہنچ چکے ہیں، تاہم دونوں ممالک کے سخت مؤقف کے باعث کسی جامع معاہدے تک پہنچنے کے لیے ابھی کئی پیچیدہ مراحل طے کرنا ہوں گے۔