شکارپور : سندھ کے ضلع شکارپور کے کچے کے علاقوں میں ڈاکوؤں اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف جاری گرینڈ آپریشن میں پولیس کو ایک انتہائی اہم اور تاریخی کامیابی حاصل ہوئی ہے، جہاں مختلف بدنامِ زمانہ گینگز سے تعلق رکھنے والے 60 سنگین جرائم پیشگی اور خطرناک ڈاکوؤں نے قانون کے سامنے گھٹنے ٹیکتے ہوئے خود کو پولیس کے حوالے کر دیا ہے۔
ایس ایس پی شکارپور کلیم ملک کے مطابق ہتھیار ڈالنے والوں میں کچے کے بدنام ترین 'تیغانی گینگ' کا سربراہ بیلو تیغانی بھی اپنے متعدد مسلح ساتھیوں سمیت شامل ہے۔ واضح رہے کہ بیلو تیغانی قتل، اغوا برائے تاوان اور ڈکیتی جیسے 102 سنگین مقدمات میں پولیس کو مطلوب تھا اور سندھ حکومت نے اس کی گرفتاری پر ایک کروڑ روپے کا بھاری انعام مقرر کر رکھا تھا۔ ایس ایس پی کلیم ملک نے مزید تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ہتھیار ڈالنے والوں میں بڈانی، سبزوئی اور دیگر خطرناک گینگز کے کارندے بھی شامل ہیں جن کے سروں پر حکومت کی جانب سے لاکھوں روپے کے انعامات مقرر تھے۔ انہوں نے واشگاف الفاظ میں کہا کہ کچے میں آپریشن جرائم کے مکمل خاتمے تک جاری رہے گا اور سرینڈر کرنے والے تمام ڈاکوؤں کے ساتھ قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔