یروشلم: فلسطینی فٹبال حلقوں میں اس وقت تشویش کی لہر دوڑ گئی جب فلسطینی خواتین کی فٹبال ٹیم سے وابستہ ایک نوجوان کھلاڑی کو اسرائیلی حکام نے حراست میں لے لیا۔ فلسطینی اداروں نے اس اقدام کو کھلاڑیوں کے خلاف جاری مبینہ کریک ڈاؤن کا حصہ قرار دیا ہے۔
فلسطینی ذرائع کے مطابق 20 سالہ فٹبالر رند حلوانی کو مغربی یروشلم میں واقع ایک پولیس اسٹیشن میں تفتیش کے لیے طلب کیا گیا تھا، جہاں پوچھ گچھ کے بعد انہیں تحویل میں لے لیا گیا۔ بعد ازاں انہیں عدالت میں پیش کیا گیا، جس نے ان کی حراست میں مزید توسیع کرتے ہوئے جمعے تک زیرِ حراست رکھنے کی اجازت دے دی۔
رپورٹس کے مطابق اسرائیلی حکام کی جانب سے تاحال رند حلوانی کی گرفتاری کی وجوہات عوامی طور پر بیان نہیں کی گئیں۔
فلسطینی فٹبال ایسوسی ایشن نے اس پیش رفت پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ فلسطینی کھلاڑیوں، خصوصاً نوجوان ٹیلنٹ، کو مختلف طریقوں سے نشانہ بنانے کا سلسلہ مسلسل جاری ہے اور حالیہ گرفتاری اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔
ایسوسی ایشن کے مطابق فلسطینی خواتین کی قومی ٹیم کی سابق رکن اور بیرزیت یونیورسٹی کی طالبہ نیٹلی ابو دیا کو بھی اسی روز اسرائیلی فورسز نے ان کی رہائش گاہ پر کارروائی کے دوران حراست میں لیا۔
ادھر فلسطینی فٹبال حکام نے ایک اور حالیہ واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ فلسطینی فٹبالر مصعب ابو سالم کو بیرونِ ملک سفر سے روک دیا گیا۔ تنظیم کے مطابق انہیں ایلنبی کراسنگ پر روک کر طویل پوچھ گچھ کی گئی اور بعد ازاں اٹلی روانہ ہونے کی اجازت نہیں دی گئی۔
فلسطینی فٹبال ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ مصعب ابو سالم ایک دوستانہ فٹبال میچ میں شرکت کے لیے فلسطین اسٹارز ٹیم کے ہمراہ اٹلی جا رہے تھے، جہاں فلسطینی عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا جانا تھا۔
فلسطینی حکام کے مطابق اکتوبر 2023 میں غزہ میں جنگ کے آغاز کے بعد سے سیکڑوں فلسطینی کھلاڑی اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں، جبکہ فلسطینی قیدیوں کے امور سے متعلق اداروں کا کہنا ہے کہ اس وقت درجنوں فلسطینی خواتین اسرائیلی جیلوں میں قید ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق حالیہ گرفتاریاں اور سفری پابندیاں کھیلوں اور سیاست کے باہمی تعلق پر ایک نئی بحث کو جنم دے رہی ہیں، جبکہ فلسطینی اسپورٹس تنظیمیں بین الاقوامی اداروں سے اس معاملے کا نوٹس لینے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔