حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
سی آئی اے اور امریکی انٹیلی جینس سربراہ ادارے میں شدید اختلافات، ایران سے متعلق حساس رپورٹس بھی متاثر Home / بین الاقوامی /

سی آئی اے اور امریکی انٹیلی جینس سربراہ ادارے میں شدید اختلافات، ایران سے متعلق حساس رپورٹس بھی متاثر

ایڈیٹر - 04/06/2026
سی آئی اے اور امریکی انٹیلی جینس سربراہ ادارے میں شدید اختلافات، ایران سے متعلق حساس رپورٹس بھی متاثر

واشنگٹن: امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے اور قومی انٹیلی جینس نظام کی نگران تنظیم او ڈی این آئی کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے قومی سلامتی کے امور پر ادارہ جاتی تعاون کو متاثر کرنا شروع کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں بعض اہم انٹیلی جینس تجزیاتی رپورٹس کی تیاری اور تبادلے میں بھی رکاوٹیں پیدا ہو رہی ہیں۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق امریکی حکام اور باخبر ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ دونوں اداروں کے درمیان اختلافات ایک سال سے زائد عرصے سے جاری ہیں۔ اس تنازع کے باعث سی آئی اے نے بعض حساس انٹیلی جینس جائزوں، بالخصوص ایران سے متعلق رپورٹس میں اپنی شمولیت محدود کر دی ہے۔

رپورٹ کے مطابق یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا کو مشرقِ وسطیٰ میں ایران سے متعلق کشیدگی، چین کی عسکری سرگرمیوں اور روس۔یوکرین جنگ جیسے پیچیدہ عالمی چیلنجز کا سامنا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اختلافات کی جڑ ایک خصوصی گروپ ہے جسے سابق ڈائریکٹر نیشنل انٹیلی جینس تلسی گبارڈ نے اپریل 2025 میں قائم کیا تھا۔ "ڈائریکٹرز انیشی ایٹو گروپ" نامی اس فورم کے قیام کے بعد دونوں اداروں کے تعلقات میں تناؤ بڑھنا شروع ہوا۔

سی آئی اے کے حکام کا مؤقف ہے کہ مذکورہ گروپ روایتی انٹیلی جینس شیئرنگ کے ضوابط سے ہٹ کر کام کر رہا تھا، جبکہ او ڈی این آئی کا دعویٰ ہے کہ سی آئی اے بعض اہم معلومات تک رسائی محدود کر رہی تھی، جس سے ادارہ جاتی رابطہ متاثر ہوا۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ باہمی اعتماد میں کمی کے باعث سی آئی اے نے نیشنل انٹیلیجنس کونسل کی متعدد رپورٹس میں اپنا کردار کم کر دیا، جن میں ایران سے متعلق وہ تجزیاتی دستاویزات بھی شامل ہیں جو خطے کی سکیورٹی صورتحال کے تناظر میں انتہائی اہم سمجھی جاتی ہیں۔

ذرائع کے مطابق تنازع اس وقت مزید گہرا ہو گیا جب تلسی گبارڈ نے عہدہ سنبھالنے کے بعد صدر کے روزانہ انٹیلی جینس بریفنگ سسٹم پر زیادہ انتظامی کنٹرول حاصل کیا۔ بعد ازاں انیشی ایٹو گروپ کے قیام نے دونوں اداروں کے اختلافات کو مزید نمایاں کر دیا۔

اس گروپ کو انٹیلی جینس اداروں میں مبینہ سیاسی اثرات، سابق امریکی صدر جان ایف کینیڈی  کے قتل سے متعلق ریکارڈ، انتخابی سکیورٹی اور کووڈ-19 کی ابتدا جیسے موضوعات پر تحقیقات کا اختیار دیا گیا تھا۔ تاہم ناقدین نے الزام عائد کیا کہ اس پلیٹ فارم کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق مئی 2025 میں نیشنل انٹیلی جینس کونسل سے وابستہ دو سینئر سی آئی اے افسران کو عہدوں سے ہٹایا گیا، جبکہ بعد ازاں درجنوں موجودہ اور سابق حکام کی سکیورٹی کلیئرنس بھی منسوخ کر دی گئی، جس پر مختلف حلقوں کی جانب سے اعتراضات سامنے آئے۔

یہ تنازع گزشتہ ماہ اس وقت کھل کر سامنے آیا جب ایک سی آئی اے افسر نے امریکی سینیٹ کی ایک کمیٹی کو بتایا کہ کووڈ-19 کی ابتدا سے متعلق بعض معلومات تک مذکورہ گروپ کی رسائی محدود رکھی گئی تھی۔ اس معاملے پر انٹیلی جینس کمیونٹی کے انسپکٹر جنرل کے دفتر نے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

دوسری جانب او ڈی این آئی اور وائٹ ہاؤس کا مؤقف ہے کہ امریکی قیادت کو بدستور معیاری انٹیلی جینس معلومات فراہم کی جا رہی ہیں۔ حکام کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اپنی قومی سلامتی ٹیم اور انٹیلی جینس اداروں کی کارکردگی پر مکمل اعتماد حاصل ہے۔