حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
نیشنل گیمز انعامی تنازع: ایک لاکھ روپے یا کھیلوں کا نیا کرپشن فریم ورک؟ Home / کھیل /

نیشنل گیمز انعامی تنازع: ایک لاکھ روپے یا کھیلوں کا نیا کرپشن فریم ورک؟

مسرت اللہ جان

ایڈیٹر - 04/06/2026
نیشنل گیمز انعامی تنازع: ایک لاکھ روپے یا کھیلوں کا نیا کرپشن فریم ورک؟

نیشنل گیمز میں نمایاں کارکردگی دکھانے والے کوچز اور کھلاڑیوں کیلئے صوبائی اسپورٹس ڈائریکٹریٹ کی طرف سے ایک لاکھ روپے انعام کا اعلان بظاہر ایک مثبت قدم تھا۔ لیکن اس اعلان نے ایک ایسے نظام کی حقیقت بے نقاب کر دی ہے جس میں “کردار” سے زیادہ “دعویٰ” اہم ہو چکا ہے۔اصل مسئلہ رقم نہیں۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان کے سپورٹس ڈھانچے میں یہ واضح ہی نہیں کہ کوچ ہے کون، ٹیم کا ذمہ دار کون ہے، اور ایسوسی ایشن کا کردار کہاں ختم ہوتا ہے۔

نیشنل گیمز میں مختلف کھیلوں کے ساتھ مختلف قسم کے لوگ گئے: کچھ ٹیموں کے ساتھ باقاعدہ منظور شدہ کوچز تھے جن کا تقرر ڈائریکٹریٹ یا متعلقہ فیڈریشن نے کیا۔ کچھ ٹیمیں ایسوسی ایشنز کے نامزد نمائندوں کے ساتھ گئیں جن کی حیثیت اکثر انتظامی تھی، تکنیکی نہیں۔ کچھ جگہوں پر ٹیم مینجر اور کوچ ایک ہی شخص تھا، یعنی کرداروں کا انضمام۔ اور بعض کیسز میں ایسے لوگ بھی شامل تھے جن کا کردار نہ واضح تھا نہ دستاویزی۔ اب جب انعامی رقم سامنے آئی ہے تو یہی غیر واضح ڈھانچہ ایک مالی تنازع میں بدل گیا ہے۔

یہاں سب سے خطرناک رجحان یہ ہے کہ کچھ ایسوسی ایشنز اب یہ دعویٰ کر رہی ہیں کہ چونکہ ٹیم “ہم نے بھیجی” یا “ہم نے سلیکٹ کی”، اس لیے کوچ کی انعامی رقم بھی ہمیں ملنی چاہیے۔ یہ دعویٰ اصولی طور پر کمزور ہے، کیونکہ اگر سلیکشن ہی انعام کا معیار بن جائے تو پھر کوچنگ، کارکردگی اور ذمہ داری کا تصور ختم ہو جاتا ہے۔ پھر ہر وہ شخص دعویٰ کرے گا جس نے کسی نہ کسی سطح پر ٹیم کے کاغذ پر دستخط کیے ہوں۔یہی وہ جگہ ہے جہاں نظام بگڑتا ہے۔

مزید پیچیدہ بات یہ ہے کہ کچھ ایسوسی ایشنز اب براہ راست کوچز سے رابطہ کر رہی ہیں اور غیر رسمی معاہدوں کی کوشش ہو رہی ہے۔ “آدھا ہمیں دو” جیسے جملے اب محض افواہ نہیں رہے بلکہ ایک ابھرتی ہوئی حقیقت بن چکے ہیں۔ یہ صورتحال دو بڑے خطرات پیدا کر رہی ہے پہلا: ادارہ جاتی اختیار کمزور ہو رہا ہے، کیونکہ فیصلے پالیسی کی بجائے دباو¿ سے متاثر ہو رہے ہیں۔دوسرا: کوچز اور انتظامی نمائندوں کے درمیان اخلاقی اور پیشہ ورانہ حدیں ختم ہو رہی ہیں۔ اگر یہ رجحان جاری رہا تو مستقبل میں ہر انعامی اعلان ایک نئے تنازع کو جنم دے گا۔

اسپورٹس ڈائریکٹریٹ کی پالیسی بظاہر واضح ہے کہ صرف وہی افراد اہل ہوں گے جن کا نام آفیشل ٹیم فہرست میں بطور کوچ درج ہے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان کے کھیلوں کے نظام میں “آفیشل فہرست” بھی اکثر متنازع اور سیاسی طور پر متاثر ہوتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ آج ڈائریکٹریٹ ایک طرف پالیسی پر کھڑی ہے اور دوسری طرف غیر رسمی دباو¿ کا سامنا کر رہی ہے۔ ایک اور تشویشناک پہلو یہ ہے کہ کچھ جگہوں پر مبینہ طور پر دباو¿ اور دھمکیوں کی زبان استعمال ہو رہی ہے۔ یہ صرف مالی تنازع نہیں بلکہ ادارہ جاتی ساکھ کا مسئلہ بن چکا ہے۔

اگر ریاستی ادارے اس لائن کو واضح نہ کر سکے کہ کوچ کون ہے اور حقدار کون، تو پھر کھیلوں کا نظام میرٹ کے بجائے دعووں کی سیاست میں بدل جائے گا۔اصل بحران یہ ہے کہ ہم نے کھیل کو انتظامی طاقتوں، ایسوسی ایشنز کے اثر و رسوخ اور غیر واضح کرداروں کے درمیان تقسیم کر دیا ہے۔ اور اب جب انعام آیا ہے تو سب اپنا حصہ مانگ رہے ہیں، چاہے ان کا کردار تکنیکی ہو یا نہ ہو۔ یہ پورا معاملہ ایک سوال چھوڑ جاتا ہے: کیا ہم واقعی کھیلوں کا نظام چلا رہے ہیں یا صرف اس کے مالی فائدوں کی تقسیم کا طریقہ کار؟