حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
میڈیا کو انصار خلجی جیسے تجربہ کار افسر کی ضرورت Home / بلاگز /

میڈیا کو انصار خلجی جیسے تجربہ کار افسر کی ضرورت

تحریر: عظمت خان داؤدزئی

ایڈیٹر - 04/06/2026
میڈیا کو انصار خلجی جیسے تجربہ کار افسر کی ضرورت

کسی بھی جمہوری حکومت اور عوام کے درمیان مؤثر رابطے کے لیے محکمہ اطلاعات کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ ادارہ نہ صرف حکومت کی پالیسیوں، فیصلوں اور ترقیاتی اقدامات کو عوام تک پہنچاتا ہے بلکہ میڈیا اور حکومتی اداروں کے درمیان ایک مضبوط پل کا کردار بھی ادا کرتا ہے۔ موجودہ دور میں جہاں اطلاعات کی بروقت ترسیل اور درست معلومات کی فراہمی انتہائی اہمیت اختیار کر چکی ہے، وہاں محکمہ اطلاعات کی ذمہ داریاں پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہیں۔

محکمہ اطلاعات کو حکومت کی ترجمانی کرنے والا بنیادی ادارہ تصور کیا جاتا ہے۔ حکومتی اقدامات، عوامی فلاحی منصوبوں، اہم فیصلوں اور پالیسیوں کو میڈیا کے ذریعے عوام تک پہنچانے میں اسی ادارے کا مرکزی کردار ہوتا ہے۔ اگر یہ رابطہ کمزور پڑ جائے تو حکومت اور عوام کے درمیان فاصلہ پیدا ہونے لگتا ہے، جس کے منفی اثرات پورے نظام پر مرتب ہوتے ہیں۔

یہ ایک حساس اور ذمہ دار محکمہ ہے جہاں معمولی سی کوتاہی بھی بڑے مسائل کو جنم دے سکتی ہے۔ اطلاعات کی دنیا میں لمحوں کی اہمیت ہوتی ہے اور ایک خبر کی تاخیر یا غلط تشریح پورے ملک میں بحث و مباحثے کا سبب بن سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس ادارے کی قیادت ایسے افسر کے ہاتھ میں ہونی چاہیے جو نہ صرف پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا حامل ہو بلکہ میڈیا کی نفسیات، صحافتی تقاضوں اور حکومتی امور سے بھی مکمل آگاہی رکھتا ہو۔

خیبر پختونخوا کے محکمہ اطلاعات میں انصار خلجی کا نام ایسے افسران میں شامل ہے جو اپنے وسیع تجربے، پیشہ ورانہ مہارت اور میڈیا سے مضبوط تعلقات کی وجہ سے ایک منفرد مقام رکھتے ہیں۔ انہوں نے اپنی عملی زندگی میں صحافیوں، پریس کلبوں، میڈیا مالکان اور مختلف اداروں کے ساتھ مثبت اور مؤثر روابط قائم کیے ہیں۔ یہی روابط کسی بھی ڈائریکٹر جنرل اطلاعات کے لیے سب سے بڑی طاقت سمجھے جاتے ہیں کیونکہ اس عہدے پر بیٹھا شخص حکومت، میڈیا اور عوام کے درمیان رابطے کا مرکزی ذریعہ ہوتا ہے۔

محکمہ اطلاعات کے اندر موجود سینئر، تجربہ کار اور تکنیکی افسران کو نظر انداز کرکے اگر باہر سے کسی ایسے افسر کو تعینات کیا جائے جو میڈیا کے مزاج اور محکمہ کی حساس نوعیت سے مکمل طور پر واقف نہ ہو تو اس سے ادارے کی کارکردگی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔ اس اہم عہدے کے لیے تجربہ، میڈیا سے تعلقات اور ادارے کے اندرونی معاملات کی مکمل سمجھ بوجھ بنیادی تقاضے ہیں۔

یہ امر بھی تشویش کا باعث ہے کہ محکمہ اطلاعات کا اہم ترین عہدہ گزشتہ دو ماہ سے خالی ہے۔ کسی بھی حساس ادارے میں کلیدی نشست کا طویل عرصے تک خالی رہنا انتظامی امور اور حکومتی رابطہ کاری کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ موجودہ حالات میں جبکہ حکومت کو اپنی پالیسیوں اور اقدامات کو مؤثر انداز میں عوام تک پہنچانے کی ضرورت ہے، اس عہدے پر فوری تعیناتی وقت کی اہم ضرورت بن چکی ہے۔

صوبائی حکومت کو چاہیے کہ محکمہ اطلاعات کی اس اہم ذمہ داری کے لیے ایسے افسر کا انتخاب کرے جو تجربے، قابلیت، پیشہ ورانہ مہارت اور میڈیا سے مضبوط تعلقات کی بنیاد پر اس منصب کا حق دار ہو۔ انصار خلجی جیسے تجربہ کار اور سینئر افسر نہ صرف محکمہ اطلاعات کی کارکردگی کو مزید بہتر بنا سکتے ہیں بلکہ حکومت اور میڈیا کے درمیان اعتماد، تعاون اور رابطے کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

آج جب اطلاعات کی جنگ پہلے سے کہیں زیادہ تیز ہو چکی ہے، تو محکمہ اطلاعات کو ایسے ہی پیشہ ور، باصلاحیت اور تجربہ کار افسران کی ضرورت ہے جو ادارے کو جدید تقاضوں کے مطابق آگے بڑھا سکیں اور حکومت کا مؤقف مؤثر انداز میں عوام تک پہنچا سکیں۔