اسلام آباد: آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ کے حوالے سے حکومت اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان ہونے والی اہم مشاورت مثبت نتائج کے ساتھ اختتام پذیر ہوگئی، جہاں بجٹ پیش کرنے کی متوقع تاریخ اور پارلیمانی تعاون کے معاملے پر نمایاں پیش رفت سامنے آئی ہے۔
ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت اور پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کے درمیان دارالحکومت میں ہونے والے اجلاس میں ملکی معاشی صورتحال، ترقیاتی منصوبوں، بجٹ ترجیحات اور عوامی فلاحی اقدامات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ مشاورت کے دوران وفاقی بجٹ 10 جون کو پیش کرنے کی تجویز پر اتفاق رائے پیدا ہوا، جسے وزیراعظم کو سفارش کے طور پر بھجوایا جائے گا۔
اجلاس میں حکومتی ٹیم کی نمائندگی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور بلال اظہر کیانی نے کی، جبکہ پیپلز پارٹی کی جانب سے سینئر قیادت نے شرکت کرتے ہوئے پارٹی کے ترقیاتی اور مالیاتی مطالبات پیش کیے۔ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ بھی ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شریک ہوئے۔
اجلاس کے بعد جاری اعلامیے میں بتایا گیا کہ ترقیاتی فنڈز، پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) اور اقتصادی حکمت عملی سے متعلق مختلف تجاویز کا جائزہ لیا گیا۔ فریقین نے عوامی بہبود، روزگار کے مواقع اور ترقیاتی منصوبوں کو بجٹ میں مناسب اہمیت دینے پر زور دیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی نے اپنی تجاویز حکومت کے سامنے پیش کیں، جن میں متعدد ترقیاتی منصوبوں کو وفاقی بجٹ میں شامل کرنے پر اصولی اتفاق بھی ہوا۔ اسی پیش رفت کے بعد پارٹی نے بجٹ کی منظوری کے مرحلے میں حکومتی مؤقف کی حمایت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
دوسری جانب وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے میڈیا سے گفتگو میں بجٹ 10 جون کو پیش کیے جانے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ عوام پر نئے ٹیکسوں کا بوجھ نہ ڈالا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ محصولات میں اضافے کے لیے ٹیکس نظام کو مؤثر بنانے اور ٹیکس نیٹ میں توسیع پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔
وزیر خزانہ کے مطابق حکومت معاشی فیصلوں میں اتحادی جماعتوں، بین الاقوامی مالیاتی اداروں اور دیگر متعلقہ فریقوں کے ساتھ مشاورت کو اہمیت دے رہی ہے، جبکہ بجٹ تجاویز کو حتمی شکل دینے کے لیے آئندہ دنوں میں مزید اجلاس بھی متوقع ہیں۔ئ