واشنگٹن: ایران اور مغربی ممالک کے درمیان ممکنہ عبوری معاہدے پر جاری بحث کے دوران ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی عارضی مفاہمت کے باوجود خطے میں موجود بنیادی کشیدگی برقرار رہ سکتی ہے۔
مشرقِ وسطیٰ کے امور کے ماہرین کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ اس تاثر سے بچنے کی کوشش کرے گی کہ مجوزہ معاہدہ 2015 کے جوہری سمجھوتے کی طرز پر ہے، جسے سابق صدر باراک اوباما کے دور میں حتمی شکل دی گئی تھی۔ تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر ایران کے منجمد اثاثوں تک رسائی دی جاتی ہے تو اس اقدام پر وہی تنقید سامنے آ سکتی ہے جو ماضی کے معاہدے کے حوالے سے کی جاتی رہی ہے۔
سابق امریکی عہدیداروں اور علاقائی امور کے ماہرین کا خیال ہے کہ جنگ میں کسی بھی عارضی وقفے کا سب سے زیادہ فائدہ ایران کے طاقتور سکیورٹی ادارے، پاسدارانِ انقلاب، کو پہنچ سکتا ہے۔ ان کے مطابق یہ ادارہ اب محض پسِ پردہ اثر و رسوخ رکھنے والی قوت نہیں بلکہ ملکی پالیسی سازی میں براہِ راست اور فیصلہ کن کردار ادا کر رہا ہے۔
دوسری جانب مبصرین کا کہنا ہے کہ کسی عبوری معاہدے سے اسرائیل کے تمام تحفظات دور نہیں ہوں گے۔ ان کے مطابق ایرانی قیادت اسرائیل کے ساتھ تنازع کو صرف سیاسی نہیں بلکہ نظریاتی مسئلہ سمجھتی ہے، جس کے باعث کسی بھی سفارتی پیش رفت کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان بنیادی اختلافات برقرار رہنے کا امکان ہے۔
ماہرین کے مطابق اگرچہ موجودہ کشیدگی میں کمی آ سکتی ہے اور جنگی ماحول وقتی طور پر ختم ہو سکتا ہے، تاہم خطے میں ایران اور اسرائیل کے درمیان طویل المدتی تنازع بدستور ایک اہم چیلنج بنا رہے گا۔