واشنگٹن : امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای سے ملاقات کے خواہشمند ہیں اور وہ جنگ کے خاتمے کے لیے جاری مذاکراتی عمل میں باقاعدہ حصہ لے رہے ہیں۔ امریکی اخبار نیویارک پوسٹ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے اس بات پر زور دیا کہ مجتبیٰ خامنہ ای کا جاری امن مذاکرات کے عمل میں شامل ہونا یقینی ہے۔ انہوں نے ایرانی قیادت سے بات چیت کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے مزید کہا کہ ایران کے عوام اور حکومت بھی ان کے فیصلوں کا احترام کرتے ہیں۔
مذاکرات کی تفصیلات اور امریکی موقف:
غیر ملکی میڈیا کے مطابق صدر ٹرمپ نے ایرانی سپریم لیڈر کی صحت سے متعلق افواہوں کو طنزیہ انداز میں مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اگر ان خبروں پر یقین کیا جائے تو وہ اپنے جسم کے کئی حصوں سے محروم ہو چکے ہیں۔ صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ایران کسی نہ کسی طرح کا معاہدہ کر لے۔ انہوں نے واضح کیا کہ 47 سال سے ایران جو کچھ کر رہا ہے، اسے اب مزید ایسا کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کے سامنے بیان دیتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای ماضی کے مقابلے میں پاک امریکہ مذاکرات میں زیادہ فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔ مارکو روبیو کے مطابق ایران اور امریکہ کے درمیان جاری حالیہ مذاکرات میں اب ایرانی جوہر پروگرام کے وہ پہلو بھی زیر بحث آ رہے ہیں جن پر تہران ایک ماہ قبل تک بات کرنے پر آمادہ نہیں تھا۔ اسی دوران امریکی محکمہ خزانہ نے ایران سے متعلق نئی پابندیوں کا اعلان کرتے ہوئے چار ایرانی شہریوں اور چار کرپٹو ایکسچینجز پر نئی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔