تہران/واشنگٹن: ایران اور امریکا کے درمیان جاری سفارتی رابطوں سے متعلق متضاد دعوے سامنے آئے ہیں، جہاں ایرانی ذرائع ابلاغ نے مذاکراتی عمل میں تعطل کا دعویٰ کیا ہے، وہیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان اطلاعات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے رابطوں کے تسلسل پر زور دیا ہے۔
ایرانی خبر رساں اداروں فارس اور تسنیم، جنہیں پاسدارانِ انقلاب سے قریب سمجھا جاتا ہے، نے رپورٹ کیا ہے کہ تہران نے جنگ بندی کے لیے ثالثی کرنے والے فریقین کے ساتھ اپنے رابطے عارضی طور پر معطل کر دیے ہیں۔ رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ یہ پیش رفت خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، خصوصاً لبنان میں حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان صورتحال کے تناظر میں سامنے آئی ہے، جس کے اثرات ایران اور امریکا کے مذاکراتی عمل پر بھی پڑ رہے ہیں۔
ایک علاقائی ثالثی اہلکار کے حوالے سے غیر ملکی خبر رساں ادارے نے بتایا کہ ایران نے حالیہ دنوں میں ثالثوں سے کوئی باضابطہ رابطہ نہیں کیا، جبکہ تہران کا مؤقف ہے کہ کسی بھی پیش رفت کے لیے پہلے لبنان میں جنگ بندی ناگزیر ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں ان رپورٹس کو “غلط اور گمراہ کن” قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان رابطے مسلسل جاری ہیں۔ ان کے مطابق گزشتہ چند دنوں میں متعدد بار دونوں فریقوں کے درمیان رابطہ ہوا ہے، اور مذاکراتی عمل کسی نہ کسی سطح پر جاری ہے۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ امریکا ایران کے ساتھ معاہدے کے لیے تیار ہے، تاہم اس کا انحصار تہران کے رویے پر ہوگا۔
ادھر امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کانگریس میں ایک سماعت کے دوران اس معاملے پر واضح موقف دینے سے گریز کیا، تاہم انہوں نے جوہری مذاکرات کے حوالے سے محتاط امید کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پیش رفت کے امکانات موجود ہیں، مگر کسی حتمی معاہدے کی ضمانت فی الحال نہیں دی جا سکتی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان سفارتی رابطوں سے متعلق متضاد بیانات خطے میں جاری غیر یقینی صورتحال اور سیاسی دباؤ کی عکاسی کرتے ہیں، جس سے مذاکراتی عمل مزید پیچیدہ ہوتا جا رہا ہے۔