اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک): حکومتِ پاکستان نے آئندہ مالی سال 2026-27 کے وفاقی بجٹ میں سرکاری آمدنی بڑھانے کے لیے روایتی شعبوں کے ساتھ ساتھ پہلی بار ملک میں موجود ڈیجیٹل اثاثوں کو بھی ٹیکس نیٹ میں لانے کی سنجیدہ تجویز پیش کر دی ہے۔ معتبر ذرائع کے مطابق، بجٹ کی تیاریاں اپنے آخری مراحل میں داخل ہو چکی ہیں، جس کے تحت ملک میں موجود کرپٹو کرنسی کے لگ بھگ 90 لاکھ صارفین کے لین دین پر ٹیکس عائد کرنے اور اسے دستاویزی شکل دینے کے لیے ایک جامع ٹیکسیشن فریم ورک اور قانونی ڈھانچہ تیار کیا جا رہا ہے۔ اس نئی پالیسی کے تحت کرپٹو کے سود اور اس سے حاصل ہونے والے منافع پر ٹیکسیشن کا جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ ڈیجیٹل کرنسی کے شعبے کو ریگولیٹ کر کے ملک میں محفوظ سرمایہ کاری کو فروغ دیا جا سکے۔ تاہم، معاشی ماہرین کا ماننا ہے کہ کرپٹو کے پیچیدہ نظام کی نگرانی کرنا اور پاکستانی شہریوں کے بیرونِ ملک رکھے گئے کرپٹو اثاثوں کا سراغ لگا کر انہیں واپس لانا حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج ہو گا۔
دوسری جانب، وفاقی بجٹ 2026ء میں عام صارفین کو روزمرہ کی اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں فوری ریلیف ملنے کے امکانات انتہائی محدود دکھائی دے رہے ہیں۔ حکام کے مطابق، کھانے پینے کی بنیادی اشیاء پر عائد سیلز ٹیکس، کسٹمز ڈیوٹیز اور دیگر محصولات کو برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جس کی وجہ سے روزمرہ استعمال کی متعدد اشیاء بدستور مہنگی رہیں گی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومتی ٹیکسوں کے اہداف پورے کرنے کے لیے بنیادی غذائی اشیاء اور ادویات پر عائد موجودہ ٹیکسوں میں کسی قسم کی کمی کی تجویز زیرِ غور نہیں ہے، جس کے باعث مہنگائی سے متاثرہ عوام کے لیے ریلیف ملنے کی توقعات بہت کم ہیں۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق، حکومت نے آئندہ مالی سال 2026-27 کے دوران ملک میں 20 لاکھ نئی ملازمتیں پیدا کرنے کا بڑا ہدف مقرر کیا ہے۔ سرکاری دستاویز کے مطابق خدمات (سروسز) کے شعبے میں 11 لاکھ، صنعتی شعبے میں 5 لاکھ، اور زرعی شعبے میں 4 لاکھ روزگار کے مواقع پیدا ہونے کی توقع ہے۔ واضح رہے کہ حکومت کا دعویٰ ہے کہ 30 جون کو ختم ہونے والے رواں مالی سال کے دوران ملک میں پہلے ہی 18 لاکھ ملازمتوں کے مواقع پیدا کیے جا چکے ہیں۔