حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
اٹلی کے جنوبی علاقے کالابریا میں منی وین کو آگ لگا کر تین افغان، ایک پاکستانی مزدوروں کو زندہ جلا دیا گیا۔ Home / بین الاقوامی /

اٹلی کے جنوبی علاقے کالابریا میں منی وین کو آگ لگا کر تین افغان، ایک پاکستانی مزدوروں کو زندہ جلا دیا گیا۔

ایڈیٹر - 03/06/2026
اٹلی کے جنوبی علاقے کالابریا میں منی وین کو آگ لگا کر  تین افغان، ایک پاکستانی مزدوروں کو زندہ جلا دیا گیا۔

اٹلی کے جنوبی خطے کالابریا میں 4 پاکستانی مزدوروں کو زندہ جلائے جانے کے ہولناک واقعے میں انتہائی لرزہ خیز انکشافات سامنے آئے ہیں، جس کے بعد اطالوی پولیس نے اسے باقاعدہ منصوبہ بند قتلِ عمد قرار دے دیا ہے۔ مقامی اخبار کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق، یہ افسوسناک واقعہ کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع امینڈولارا (Amendolara) نامی گاؤں کے ایک پٹرول پمپ کے قریب پیش آیا۔ پٹرول پمپ پر نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی حاصل شدہ فوٹیج نے واقعے کی تمام کڑیاں کھول کر رکھ دی ہیں، جس میں دو نامعلوم افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے مضبوطی سaے بند کرتے اور پھر سفاکی کے ساتھ اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ آتش گیر مائع پھینکے جانے کے فوراً بعد گاڑی شعلوں کی لپیٹ میں آ گئی، جس کے بعد دونوں مشتبہ افراد بڑی بے رحمی سے موقع سے فرار ہو گئے۔ فائر بریگیڈ کے عملے نے طویل جدوجہد کے بعد جب آگ پر قابو پایا تو گاڑی کے اندر سے چار بدقسمت پاکستانیوں کی جھلسی ہوئی لاشیں برآمد ہوئیں۔ مقامی پولیس چیف نے اطالوی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے دوٹوک الفاظ میں کہا، ’’یہ یقینی طور پر ایک وحشیانہ قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کے پوشیدہ محرکات اور تفصیلی حقائق معلوم کرنا ہیں۔‘‘

اطالوی اخبار نے ملکی تاریخ کے اس تاریک پہلو پر سے پردہ اٹھاتے ہوئے مزید لکھا ہے کہ گزشتہ چند ماہ کے دوران اسی مخصوص زرعی علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کو نشانہ بنانے اور انہیں نذرِ آتش کرنے کے 14 پے در پے واقعات پیش آ چکے ہیں، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستانی تارکینِ وطن کو منظم طریقے سے نشانہ بنایا جا رہا تھا۔ رپورٹ کے مطابق، اس علاقے میں غیر ملکی تارکینِ وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی فارمز پر کام کی تقسیم، قانونی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر شدید نوعیت کی کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے اس چار گنا قتل کی ممکنہ وجہ قرار دیا جا رہا ہے۔ اطالوی قانون نافذ کرنے والے ادارے اور اعلیٰ حکام واقعے کی باریک بینی سے تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اس گھناؤنے جرم کے اصل ماسٹر مائنڈز اور ملوث افراد کو قانون کے کٹہرے میں کھڑا کیا جا سکے۔