اسلام آباد: ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے، کیونکہ آج صبح دونوں جانب سے میزائل اور ڈرون حملے کیے گئے۔ ان تازہ کارروائیوں کے بعد دونوں ممالک نے ایک دوسرے پر شدید الزامات عائد کیے۔
ایرانی پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے بحرین میں امریکی ففتھ فلیٹ ہیڈکوارٹر، ایئربیس اور وہاں موجود ہیلی کاپٹروں کو نشانہ بنایا ہے۔ پاسداران کا کہنا ہے کہ یہ حملے امریکی کارروائیوں کے جواب میں کیے گئے اور ایک بحری جہاز بھی نشانے پر رہا۔
دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایران کے تمام دعوے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی میزائل اور ڈرون حملے ناکام بنائے گئے۔ امریکی بیان کے مطابق ایران کے دو میزائل کویت کی طرف گر گئے، جبکہ بحرین پر داغے گئے تین میزائل فضا میں تباہ کر دیے گئے۔ تین ڈرون حملے بھی ناکام بنائے گئے، جن میں تجارتی بحری جہاز بھی شامل تھے۔
امریکی فورسز نے ایرانی جزیرہ قشم میں فوجی تنصیبوں کو نشانہ بنایا، جسے ایران کی میزائل اور ڈرون کارروائیوں کے جواب میں انجام دیا گیا۔ اس سے پہلے امریکا نے بوٹسوانا کے پرچم بردار آئل ٹینکر کو ناکارہ کرنے کا بھی دعویٰ کیا تھا، جس کے بارے میں کہا گیا کہ یہ آئل ٹینکر ایرانی جزیرے خارگ کی جانب جا رہا تھا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال خطے میں امن و امان کے لیے سنگین خطرہ پیدا کر رہی ہے، اور کشیدگی کے اثرات خطے کے دیگر ممالک پر بھی پڑ سکتے ہیں۔