بیروت/تہران: مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے، جہاں لبنان میں جاری اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے بعد ایران نے سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے سنگین نتائج سے خبردار کیا ہے، جبکہ خطے میں امن کی سفارتی کوششیں بھی دباؤ کا شکار دکھائی دے رہی ہیں۔
لبنانی ذرائع کے مطابق جنوبی لبنان کے مختلف علاقوں میں حالیہ فضائی اور زمینی کارروائیوں کے دوران متعدد افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے ہیں۔ نبطیہ، شقین، کفر طیبنیت اور تبنین سمیت کئی علاقوں میں حملوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، جن میں رہائشی مقامات اور گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا۔
رپورٹس کے مطابق نبطیہ کے قریب ایک گاڑی کو نشانہ بنائے جانے کے واقعے میں ایک ڈاکٹر اور ان کے دو بچے جان کی بازی ہار گئے، جبکہ صیدا میں ایک رہائشی عمارت پر حملے کے نتیجے میں متعدد افراد ہلاک ہوئے۔ دیگر متاثرہ علاقوں میں بھی جانی و مالی نقصان کی اطلاعات ہیں، جبکہ ایک اسپتال پر حملے کے بعد زخمیوں کی تعداد میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے ان واقعات پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ لبنان میں فوجی کارروائیاں جاری رہنے کی صورت میں اس کے دور رس نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران اپنی سلامتی اور علاقائی مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کی صلاحیت رکھتا ہے۔
ادھر ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے بھی امریکا اور اسرائیل کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الزام عائد کیا کہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے کیے گئے وعدوں پر عمل درآمد نہیں ہو رہا، جس سے صورتحال مزید پیچیدہ ہو رہی ہے۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے واضح کیا ہے کہ جنوبی لبنان میں جاری فوجی آپریشنز حکومتی پالیسی کے مطابق جاری رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل اپنی قومی سلامتی اور شہریوں کے تحفظ کو اولین ترجیح دیتا ہے اور اس معاملے پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
سیاسی سطح پر کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کے تحت اسرائیل اور لبنان کے نمائندوں کے درمیان واشنگٹن میں مذاکرات کا ایک اور دور متوقع ہے، جہاں دونوں فریق خطے میں استحکام اور ممکنہ سفارتی پیش رفت پر تبادلہ خیال کریں گے۔ تاہم زمینی صورتحال اور بڑھتی ہوئی بیان بازی کے باعث امن کوششوں کو درپیش چیلنجز بدستور برقرار ہیں۔