واشنگٹن: امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) نے اپنے پریس آفس کو حساس اور محدود رسائی والا علاقہ قرار دیتے ہوئے صحافیوں کے داخلے پر پابندی عائد کر دی ہے، جس کے بعد میڈیا نمائندوں کی فوجی ترجمانوں اور متعلقہ حکام تک براہِ راست رسائی مزید محدود ہو جائے گی۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق پینٹاگون نے حالیہ دنوں میں اپنے پریس آفس کی سیکیورٹی درجہ بندی تبدیل کی ہے۔ اس فیصلے کے نتیجے میں وہ علاقہ، جہاں صحافی ماضی میں آزادانہ طور پر آ جا سکتے تھے اور فوجی حکام سے غیر رسمی ملاقاتیں کرتے تھے، اب عام رسائی سے خارج ہو گیا ہے۔
پینٹاگون کے قائم مقام پریس سیکریٹری جوئل والڈیز کے مطابق اس اقدام کی وجہ دفتر میں تعینات ایسے اہلکاروں کی موجودگی ہے جنہیں حساس اور خفیہ معلومات تک رسائی حاصل ہوتی ہے۔ ان کے بقول اس ماحول میں خصوصی محفوظ کمپیوٹر نیٹ ورکس استعمال کیے جاتے ہیں، جس کے باعث سیکیورٹی ضوابط کو مزید سخت بنانا ضروری سمجھا گیا۔
نئی پالیسی کے تحت صحافیوں کو متعلقہ حکام یا عوامی امور کے دفتر سے ملاقات کے لیے پیشگی اجازت اور وقت لینا ہوگا، جبکہ عمارت کے بعض حصوں میں ان کی نقل و حرکت بھی محدود رہے گی۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پینٹاگون اور میڈیا اداروں کے درمیان رسائی اور شفافیت کے معاملات پر کئی ماہ سے اختلافات جاری ہیں۔ وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کے دور میں میڈیا سے متعلق قواعد و ضوابط میں سختی دیکھی گئی ہے، جس پر متعدد صحافتی ادارے اعتراضات اٹھا چکے ہیں۔
دوسری جانب صحافتی تنظیموں کا مؤقف ہے کہ ایسے اقدامات سے فوجی امور کی آزادانہ رپورٹنگ متاثر ہوگی۔ امریکا کی معروف صحافتی تنظیم نیشنل پریس کلب نے بھی فیصلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ عوام کو قومی دفاع اور فوجی پالیسیوں سے متعلق معلومات تک مناسب رسائی حاصل ہونی چاہیے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق پینٹاگون کی نئی پالیسی امریکی فوج اور میڈیا کے درمیان رابطوں کو مزید محدود کر سکتی ہے، جس کے اثرات شفافیت، معلومات کی فراہمی اور دفاعی امور کی کوریج پر مرتب ہونے کا امکان ہے۔