صاحبزادہ بہاؤالدین کی قلم سے
جب سے قبائلی علاقہ جات وفاق کے زیر انتظام خیبرپختونخواہ میں ضم ہوکر ضم شده قبائلی اضلاع کہلانے لگے ہیں تب سے لیکر آج تک پہلی بار ڈپٹی کمشنر ضلع باجوڑ سے ایک باضابطہ ملاقات ہوا ۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ میرا بالکل ڈپٹی کمشنر ضلع باجوڑ سے ملنے کا ذرہ برابر شوق نہیں تھا اور وہ اس لئے کہ موجودہ ڈپٹی کمشنر ضلع باجوڑ شاہد علی خان کے بطور ڈپٹی کمشنر فرائض منصبی روز مرہ کی بنیاد پر سوشل میڈیا کی توسط سے سننے اور باقاعدہ دیکھنے کو میسر ہوتے ہیں، تاہم نہ چاہتے ہوئے بھی آج موصوف سے غیر متوقع طور پر ملاقات نصیب ہوا۔ملاقات سے قبل جب ڈی سی باجوڑ کے آفس کے درودیوار کے اندر آفس کے احاطہ میں قدم رکھا تو قرب و جوار میں متعدد اشخاص آتے جاتے دیکھے۔کوئی جاننے والے دکھائے دیتے تھے تو کوئی بالکل آجنبی محسوس ہوتے دکھائے دے رہے تھے۔خیر کوئی پندرہ، بیس برس بعد کہیں غیر متوقع چلے جانے کی صورت میں ایسا ہی محسوس ہوتا ہے ۔اتنی ہی عرصہ واقعی کچھ چیزیں لازم و ملزوم تبدیل ہوئے محسوس ہوتے ہیں۔خیر آفس روم سے باہر مہمانوں کے لئے رکھے گئے ایک کرسی پر بیٹھ گیا تو اسی میں ڈی سی باجوڑ کے آفس کے صدر دروازے پر کھڑے ایک درویش صفت باریش شخص پر نظر پڑا تو خوب سمجھ بوجھ کے بعد یقین ہوا کہ یہ شخص تو وہی ہے جو کہ پولیٹیکل ایجنٹ کے ہاں ڈیوٹی دیا کرتا تھا۔اس کے ساتھ ملنے کے لئے آہستہ آہستہ آگے بڑھنے لگا ۔میرے آہستہ آہستہ آگے بڑھنے میں دو عوامل حائل تھے ایک یہ کہ کوئی 3 سال کا عرصہ ہوگیا کہ پارکن سن قسم کی بیماری لاحق ہوگئی ہے جس کی وجہ سے پیدل چلنے میں قدرے ڈگماتے ہوئے آگے بڑھا اور اسی باریش شخص سے مصافحہ کیا۔ایک دوسرے کا حال احوال پوچھا پھر میں نے ڈی سی باجوڑ سے ملاقات کرنے کی خواہش ظاہر کردی ۔اس نے چٹ پٹ اخبار یا ٹی وی سے کام کرنے مجھے اپنا پوزیشن واضح کردینے کا اصرار کیا۔ میں نے عام شہری کی حیثیت سے ملنے پر زور دیا ۔ وہ فوری طور واپس چل پڑا اور درج کرنا چاہا کہ فلاں اخبار کا رپورٹر وغیرہ لکھے مگر میں نےمنع کیا۔معمولی انتظار کے بعد ڈی سی باجوڑ کے آفس سے بلاوا آیا ۔ڈی سی باجوڑ حسب شرافت نشست سے اٹھ کر مصافحہ کرنے کے موڈ میں دکھائی دے رہے تھے لیکن میں نے مصافحہ نہ کرنے کی وجوہ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پارکن سن بیماری کی وجہ سے ہاتھ تھامے اور ملانے میں دقت رہتا ہے لہذا اس نے فوری میرے بیماری کو بھانپتے ہوئے قریب کی نشست پر بیٹھنے کو کہا ۔آفس داخل ہوتے وقت کوئی 3 تا 4 انجانے نوجوان اور بھی تھے۔انہوں نے اپنا مدعا ایک فائل میں موجود کاغذات کی شکل میں پیش کرتے ہوئے بیان کیا۔میرا نظر اور دھیان دونوں طرف مرکوز تھا کہ جان سکوں کہ ایک 20 گریڈ انتظامی افسر کا انضمام سے قبل اور انضمام کے بعد رویہ میں ایا کوئی تبدیلی آئی بھی ہے یا وہی ایف سی آر کے زمانہ کی فرعونیت سر چڑھ کر بولتی ہے لیکن کوئی یقین کریں یا نہ کریں کہ ڈی سی باجوڑ نے انتہائی انہماک اور عزت افزاء انداز سے موجود نوجوانوں کا مدعا سنا اور پھر ان کے فائل میں موجود کاغذات پر ٹیک لگاتے لگاتے انہیں انتہائی باوقار طریقے سے امید بھرے انداز میں کھڑے ہوکر رخصت کیا ۔ڈی سی باجوڑ کے انداز گفتار اور شریفانہ لہجہ کا 10 تا 15 منٹ مطالعہ کے بعد جب مجھے متوجہ ہوا تو چونکہ میرا ذاتی کوئی کام نہیں تھا بلکہ ایک دوست نے اپنے جائز کام ڈی سی باجوڑ کے نوٹس میں لانے کے لئے بھیجا تھا ۔ راقم نے اپنے دوست کے جائز کام کا نہایت مختصر انداز میں تذکرہ کیا جس پر ڈی سی باجوڑ نے حوصلہ افزائی فرماتے ہوئے یقین دلایا کہ قانونی نقطہ نظر سے متعلقہ فائل کو منگواتا ہوں تاہم میں نے قدرے بے تلف ہونے کی جسارت کرتے ہوئے کہا کہ ہاں قانون ایسا کرنا درست قرار دیتا ہے بہر کیف صورت حال کے خوشگواریت کو دیکھتے ہوئے ایک بار پھر مزید بے تکلفی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ڈی سی باجوڑ سے اپنے علاقے کے بہت سارے مسائل میں سے صرف انتہائی اہمیت کے حامل دو مسائل پر نوٹس لینے کا اصرار کیا ۔ایک یہ کہ ہمارے علاقہ بھائی چینہ جو کہ خار تحصیل میں شامل ہے یہاں بچے بچیوں کے دو سکول ہیں۔ایک بوائز اور دوسرا گرلز پرائمری اسکول۔میں نے گرلز پرائمری اسکول بھائی چینہ کو کم سے کم مڈل تک آپ گریڈ کرنے کا مطالبہ ان کے سامنے رکھا ۔ اسی طرح دوسرا مسئلہ بھائی چینہ تک 3 کلومیٹر سڑک کے ناگفتہ بہہ حالت اور کوئی والی وارث نہ ہونے کی وجہ سے انتہائی ابتر صورتحال کی عکاسی کرتا ہے تو دوسری طرف سڑک کے تعمیر کے بعد سڑک کے دونوں جانب تعمیرات کی وجہ سے آئے روز تجاوزات اور گندہ پانی ہر گھر سے چھوڑ دینے کے ساتھ ،ہر کسی نے اپنے اپ کو لینڈ لارڈ سمجھ رکھا ہے۔ جس کی وجہ سے سڑک پر ابتداء سے اختتام تک بریکرز ہی بریکرز بنائے جاچکے ہیں ۔جس پر ڈی سی باجوڑ نے ٹی ایم او اور ایجوکیش ڈیپارٹمنٹ سے رجوع کرنے کا انتہائی حوصلہ افزا اور شفافیت سے بھرے لہجہ میں یقین دہانی کرائی جس پر ڈی سی باجوڑ کا انتہائی مشکور و ممنون ہوں کہ جس نے بھائی چینہ کے لامحدود مسائل میں سے کلیدی اہمیت کے حامل ان دونوں مسائل پر تہہ دل سے حسب اختیار اور حسب دستیاب وسائل کاروائی کرنے کا یقین دلایا۔شکریہ