کیف: روس نے یوکرین کے مختلف شہروں پر ایک بار پھر بڑے پیمانے پر میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں، جن کے نتیجے میں کم از کم 9 افراد جان کی بازی ہار گئے جبکہ 60 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ حملوں میں دارالحکومت کیف، دنیپرو اور خارکیف سمیت متعدد اہم شہری مراکز متاثر ہوئے۔
یوکرینی حکام کے مطابق منگل کی صبح ہونے والی اس کارروائی میں رہائشی علاقوں، توانائی کے نظام اور دیگر شہری انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا گیا۔ حملوں کے دوران ہزاروں شہریوں نے محفوظ مقامات، زیرِ زمین پناہ گاہوں اور میٹرو اسٹیشنوں میں پناہ لی۔
دنیپرو کے مقامی حکام کا کہنا ہے کہ شہر پر ہونے والے حملوں میں کم از کم پانچ افراد ہلاک اور 25 زخمی ہوئے، جبکہ دارالحکومت کیف میں چار افراد جان سے گئے اور 50 سے زائد افراد زخمی ہوئے۔ کیف کے میئر کے مطابق ایک بلند و بالا رہائشی عمارت میزائل حملے سے شدید متاثر ہوئی، جس کے نتیجے میں عمارت کا ایک حصہ منہدم ہو گیا اور ملبے تلے مزید افراد کے پھنسے ہونے کا خدشہ ہے۔
شمال مشرقی شہر خارکیف بھی حملوں کی زد میں رہا، جہاں متعدد افراد زخمی ہوئے جن میں ایک بچہ بھی شامل ہے۔
یہ حملے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی نے حالیہ دنوں میں روس کی جانب سے بڑے پیمانے پر حملوں کے خدشات کا اظہار کیا تھا۔ انہوں نے انٹیلی جنس رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے خبردار کیا تھا کہ روس کسی بھی وقت اپنی کارروائیوں میں شدت لا سکتا ہے۔
دوسری جانب روس کا مؤقف ہے کہ حالیہ حملے یوکرین کی جانب سے روسی علاقوں میں کیے گئے مبینہ ڈرون حملوں کے ردعمل میں کیے گئے ہیں۔ روسی حکام کے مطابق جنوبی روس میں واقع ایک آئل ریفائنری پر بھی ڈرون حملے کے بعد آگ بھڑک اٹھی، جبکہ مقبوضہ کریمیا کے بحری شہر سیواستوپول میں فضائی دفاعی نظام کو متحرک کرنا پڑا۔
روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ میں حالیہ مہینوں کے دوران فضائی حملوں کی شدت میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے، جس کے باعث دونوں ممالک کے توانائی مراکز، صنعتی تنصیبات اور شہری علاقوں کو مسلسل خطرات کا سامنا ہے۔ جنگ کے طویل ہوتے بحران نے خطے میں انسانی اور معاشی چیلنجز کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔