وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے پسِ پردہ ہونے والی حالیہ ملاقات کے حوالے سے میڈیا پر گردش کرنے والی قیاس آرائیوں اور خبروں پر باقاعدہ وضاحت جاری کر دی ہے۔ اپنے ایک خصوصی بیان میں وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے پاکستان تحریک انصاف (PTI) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان کے ہمراہ وفاقی وزیر داخلہ سے ہونے والی ملاقات کے محرکات پر تفصیلی روشنی ڈالی۔
وزیر اعلیٰ کے پی کا کہنا تھا کہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے ہونے والی اس بیٹھک کو سیاسی رنگ دینا سراسر غلط ہے، کیونکہ ملاقات کے دوران کسی بھی قسم کے سیاسی امور یا سودے بازی پر بات چیت نہیں ہوئی۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس اہم ملاقات کا واحد ایجنڈا ضلع بنوں میں پیش آنے والے دہشت گردی کے حالیہ واقعات اور صوبے بھر میں امن و امان کی مجموعی صورتحال تھا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ صوبائی سیکیورٹی اور عوام جان و مال کا تحفظ ان کی اولین ترجیح ہے جس کے لیے وفاق کے ساتھ تال میل ناگزیر ہے۔
واضح رہے کہ یہ وضاحتی بیان پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کے اس سنگین الزام کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے پی ٹی آئی قیادت پر شدید تحفظات کا اظہار کیا تھا۔ علیمہ خان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے الزام عائد کیا تھا کہ بیرسٹر گوہر اور وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے بانی چیئرمین یا ان کے خاندان کو اعتماد میں لیے بغیر وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے خفیہ ملاقات کی، جس کا عمران خان کے خاندان یا پارٹی کے قریبی حلقوں کو کوئی علم نہیں تھا اور نہ ہی اس ملاقات میں خاندان کا کوئی رکن موجود تھا۔ وزیر اعلیٰ کی حالیہ وضاحت نے پارٹی کے اندرونی حلقوں میں جاری اس نئی بحث کو تاحال ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی ہے۔