حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
فاٹا انڈسٹری کا وفاقی بجٹ میں مرج اضلاع کے لیے ٹیکس چھوٹ کا مطالبہ۔ Home / قبائلی اضلاع /

فاٹا انڈسٹری کا وفاقی بجٹ میں مرج اضلاع کے لیے ٹیکس چھوٹ کا مطالبہ۔

ایڈیٹر - 21/05/2026
فاٹا انڈسٹری کا وفاقی بجٹ میں مرج اضلاع کے لیے ٹیکس چھوٹ کا مطالبہ۔

پشاور: قبائلی اضلاع کے انضمام کے وقت وفاقی حکومت کی جانب سے فاٹا اور پاٹا کی انڈسٹریز کو ریلیف فراہم کرنے کے جو وعدے کیے گئے تھے، تاجر برادری نے ان کے فوری ایفا کا مطالبہ کر دیا ہے۔ فاٹا انڈسٹری کے رہنما خالد خان آفریدی، باجوڑ چیمبر آف کامرس کے رہنما حاجی امجد خان، ملاکنڈ چیمبر کے انعام اللہ خان اور دیگر رہنماؤں نے پشاور پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ قبائلی علاقوں کی صنعتیں اس وقت تباہی کے دہانے پر کھڑی ہیں۔ ایک طرف خطے کو دہشت گردی کا سامنا ہے تو دوسری طرف حکومت کی جانب سے آئے روز نئے ٹیکس نافذ کیے جا رہے ہیں۔

رہنماؤں نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ آنے والے وفاقی بجٹ میں ملوک اضلاع کی صنعتوں پر لگایا گیا 10 فیصد ٹیکس فوری طور پر ختم کر کے اسے 4 فیصد کیا جائے اور انکم ٹیکس میں مکمل چھوٹ دی جائے۔ انہوں نے وزیرِ اعظم، وزیرِ خزانہ اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے اپیل کی کہ وہ تاجروں کو وقت دیں اور ان کی تجاویز سنیں، کیونکہ پاک افغان بارڈر کی گزشتہ آٹھ ماہ سے جاری بندش کی وجہ سے فاٹا کی تمام انڈسٹری ٹھپ ہو چکی ہے اور ہزاروں کارکن بے روزگار ہو چکے ہیں۔

خالد خان آفریدی نے وفاقی اداروں پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت اضائی خیل ڈرائی پورٹ پر ٹیکسز کی ادائیگی کے باوجود انڈسٹری کو پریشان کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ جب تک ایف بی آر، کسٹمز اور کے پی آر اے کے لوگوں کو رقم ادا نہ کی جائے، مال ریلیز نہیں ہوتا اور یہ پیسہ سرکاری خزانے کے بجائے ذاتی جیبوں میں جاتا ہے۔ تاجر رہنماؤں نے واضح کیا کہ اگر ان کے جائز مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو ان کے پاس اسلام آباد جا کر اپنے حقوق کے لیے احتجاج کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں بچے گا۔