حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
خیبر پختونخوا حکومت کا 2 ہزار سرکاری پرائمری اسکولوں کو آؤٹ سورس کرنے کا فیصلہ۔ Home / پاکستان /

خیبر پختونخوا حکومت کا 2 ہزار سرکاری پرائمری اسکولوں کو آؤٹ سورس کرنے کا فیصلہ۔

ایڈیٹر - 21/05/2026
خیبر پختونخوا حکومت کا 2 ہزار سرکاری پرائمری اسکولوں کو آؤٹ سورس کرنے کا فیصلہ۔

پشاور: خیبر پختونخوا حکومت نے سرکاری اسپتالوں کے کامیاب تجربے کے بعد اب صوبے کے تعلیمی شعبے میں بھی انقلابی اصلاحات لانے کا فیصلہ کیا ہے۔ حکومتی منصوبے کے تحت صوبے بھر میں 2 ہزار سرکاری پرائمری اسکولوں کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت نجی شعبے (آؤٹ سورس) کے حوالے کیا جائے گا۔ محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم خیبر پختونخوا نے اس اہم فیصلے کی باقاعدہ منظوری دے دی ہے، جس کا مقصد اسکولوں کے انتظام کار کو بہتر بنانا اور شرح خواندگی میں اضافہ کرنا ہے۔

منصوبے کی تفصیلات کے مطابق، ابتدائی مرحلے میں صرف پرائمری اسکولوں کو آؤٹ سورس کیا جا رہا ہے۔ اس عمل کے دوران صوبائی حکومت عملے کی تنخواہوں اور دیگر انتظامی اخراجات کو پورا کرنے کے لیے ہر اسکول کو ماہانہ 3 لاکھ روپے کی مالی معاونت فراہم کرے گی۔ حکام کے مطابق صوبے میں اب تک 500 سرکاری اسکولوں کو آؤٹ سورس کیا جا چکا ہے، جن میں سے سرد علاقوں کے 233 اسکول شامل ہیں۔ ان اسکولوں کو نجی شعبے کے حوالے کرنے کے بعد مثبت نتائج سامنے آئے ہیں اور وہاں طلبہ کی انرولمنٹ (داخلیوں) میں 89 فیصد تک کا غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

محکمہ تعلیم کے اعداد و شمار کے مطابق، آؤٹ سورسنگ سے قبل ان اسکولوں میں طلبہ کی کل تعداد محض 4 ہزار 86 تھی، جو اب بہتر ہو کر 7 ہزار 718 تک پہنچ چکی ہے۔ حکومت نے ہدف مقرر کیا ہے کہ ایک سال کے اندر ان اسکولوں میں انفرادی طور پر طلبہ کی انرولمنٹ کو 40 سے بڑھا کر کم از کم 180 تک پہنچایا جائے۔ محکمہ تعلیم نے واضح کیا ہے کہ یہ شراکت داری کارکردگی سے مشروط ہوگی، اور مقررہ تعلیمی اہداف کے حصول میں ناکامی کی صورت میں نجی انتظامیہ کے ساتھ معاہدہ فوری طور پر منسوخ کر دیا جائے گا۔

اہم تفصیلات 

  • سرکاری فنڈنگ (Government Funding): صوبائی حکومت نجی شعبے کو منتقل کیے گئے ہر اسکول کے اخراجات اور عملے کی Salary کے لیے ماہانہ 3 لاکھ روپے فراہم کرے گی۔
  • موجودہ کارکردگی (Current Performance): صوبے بھر میں اب تک 500 اسکولوں کو آؤٹ سورس کیا جا چکا ہے، جس سے تعلیم کے معیار میں نمایاں بہتری آئی ہے۔
  • انرولمنٹ میں اضافہ (Student Enrolment): سرمائی علاقوں کے 233 آؤٹ سورس اسکولوں میں طلبہ کی انرولمنٹ 89 فیصد بہتر ہوئی ہے۔ پہلے ان اسکولوں میں 4 ہزار 86 طلبہ تھے، جو ایک سال میں بڑھ کر 7 ہزار 718 ہو گئے ہیں۔
  • سخت شرائط (Strict Agreement Policy): حکومت نے ہدف مقرر کیا ہے کہ انرولمنٹ کو کم از کم 40 طلبہ سے بڑھا کر 180 تک پہنچایا جائے۔ اہداف (Targets) کے حصول میں ناکامی کی صورت میں معاہدہ فوراً ختم کر دیا جائے گا۔