حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
پاکستان میں بلند فشارِ خون (بلڈ پریشر) سے سالانہ 4 لاکھ اموات کا انکشاف Home / لائف سٹائل /

پاکستان میں بلند فشارِ خون (بلڈ پریشر) سے سالانہ 4 لاکھ اموات کا انکشاف

ایڈیٹر - 19/05/2026
پاکستان میں بلند فشارِ خون (بلڈ پریشر) سے سالانہ 4 لاکھ اموات کا انکشاف

بلند فشارِ خون پاکستان میں سالانہ 4 لاکھ جانیں نگلنے لگا؛ 33 ملین سے زائد افراد متاثر، ڈاؤ یونیورسٹی کا کراچی میں 100 سے زائد ہیلتھ یونٹس قائم کرنے کا فیصلہ

کراچی: پاکستان میں بلند فشارِ خون (ہائی بلڈ پریشر) ایک سنگین بحران کی شکل اختیار کر چکا ہے جس کی وجہ سے ملک بھر میں ہر سال 4 لاکھ سے زائد افراد زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں۔ ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کی پرو وائس چانسلر پروفیسر جہاں آرا حسن نے عالمی یومِ فشارِ خون کے موقع پر ڈاؤ انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کے زیراہتمام منعقدہ ایک سیمینار اور پینل ڈسکشن سے بطورِ مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے اس ہولناک صورتحال کا انکشاف کیا۔ انہوں نے بتایا کہ عالمی سطح پر 1 ارب 40 کروڑ لوگ اس مرض کا شکار ہیں اور سالانہ 10 ملین اموات ہوتی ہیں، جن میں پاکستان کا حصہ انتہائی تشویشناک ہے۔

طبی ماہرین اور مقررین نے سیمینار کے دوران بتایا کہ پاکستان میں اس وقت 33 ملین (3 کروڑ 30 لاکھ) سے زائد افراد ہائی بلڈ پریشر کے عارضے میں مبتلا ہیں۔ انتہائی تشویشناک امر یہ ہے کہ ان مریضوں میں سے 50 فیصد افراد اپنے ہائی بلڈ پریشر سے بالکل لاعلم ہیں، جبکہ تشخیص شدہ مریضوں میں سے محض 12 فیصد کا بلڈ پریشر کنٹرول میں رہتا ہے۔ پروفیسر جہاں آرا حسن کا کہنا تھا کہ ہائی بلڈ پریشر جسم کے اعضاء کو دیمک کی طرح چاٹتا ہے اور یہ فالج، عارضۂ قلب، گردوں کی بیماری اور بینائی کی ابتری جیسی پیچیدہ بیماریوں کا بنیادی سبب بن رہا ہے۔

اس سنگین طبی صورتحال کے سدِباب کے لیے ڈاؤ یونیورسٹی نے ایک بڑے منصوبے کا اعلان کیا ہے۔ یونیورسٹی انتظامیہ کے مطابق کراچی میں قائم اپنے تمام 100 سے زائد لیب کلیکشن یونٹس کو بنیادی صحت کی فراہمی کے مراکز کے طور پر استعمال کرنے کا پلان تیار کر لیا گیا ہے۔ ان مراکز پر شہریوں کے لیے بلند فشارِ خون کی باقاعدہ مانیٹرنگ اور مناسب علاج معالجے کی ہنگامی سہولیات دستیاب ہوں گی تاکہ اس خاموش قاتل کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔