حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
ملک میں دوبارہ شفاف اور منصفانہ انتخابات کرائے جائیں، موجودہ پارلیمنٹ عوامی نمائندہ نہیں؛ مولانا فضل الرحمٰن Home / سیاست /

ملک میں دوبارہ شفاف اور منصفانہ انتخابات کرائے جائیں، موجودہ پارلیمنٹ عوامی نمائندہ نہیں؛ مولانا فضل الرحمٰن

ایڈیٹر - 19/05/2026
ملک میں دوبارہ شفاف اور منصفانہ انتخابات کرائے جائیں، موجودہ پارلیمنٹ عوامی نمائندہ نہیں؛ مولانا فضل الرحمٰن

ملک میں دوبارہ شفاف اور منصفانہ انتخابات کرائے جائیں، موجودہ پارلیمنٹ عوامی نمائندہ نہیں؛ مولانا فضل الرحمٰن کا کراچی پریس کلب میں دھماکہ خیز خطاب

کراچی: جمیعت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے ملک کو موجودہ سیاسی و معاشی بحرانوں سے نکالنے کے لیے ایک بار پھر عام انتخابات کے دوبارہ انعقاد کا زوردار مطالبہ کر دیا ہے۔ کراچی پریس کلب میں 'میٹ دی پریس' سے خطاب کرتے ہوئے جے یو آئی (ف) کے سربراہ نے واشگاف الفاظ میں کہا کہ ملک میں دوبارہ آزاد، شفاف اور منصفانہ انتخابات کرائے جائیں تاکہ حقیقی عوامی نمائندگی سامنے آ سکے۔ موجودہ پارلیمنٹ پر تنقید کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ بظاہر عوام کو ووٹ ڈالنے کی اجازت دی جاتی ہے لیکن بعد میں عوامی رائے کو تبدیل کر دیا جاتا ہے، ایسی صورتحال میں موجودہ پارلیمنٹ کو کسی صورت قوم کی حقیقی نمائندہ تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔

مولانا فضل الرحمٰن نے صدرِ مملکت آصف علی زرداری کو بھی کڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ صدر زرداری ایوانِ صدر کی آئینی حدود میں رہتے ہوئے کوئی سیاسی کردار ادا نہیں کر سکتے، اگر انہیں سیاست کرنی ہے تو صدارت کی کرسی سے نیچے اتر کر بات کرنا ہوگی۔ انہوں نے ملک میں امن و امان کی دگرگوں صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں امن مخدوش ہو چکا ہے جبکہ اندرونِ سندھ ڈاکوؤں کا راج قائم ہے، لیکن حکمرانوں کو نہ تو امن و امان کی کوئی فکر ہے اور نہ ہی وہ معیشت کی بہتری کے لیے سنجیدہ ہیں۔ بین الاقوامی حالات کا بہانہ بنا کر عوام پر مہنگائی کا پہاڑ گرا دیا گیا ہے جس کی وجہ سے آج کا عام آدمی اپنے بچوں کے لیے روزمرہ کی ضروریات اور تعلیم تک پورا کرنے سے قاصر ہے۔

سربراہ جے یو آئی نے مجوزہ اٹھائیسویں آئینی ترمیم پر گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ اس معاملے پر حکومت کی جانب سے ابھی تک کوئی واضح مؤقف سامنے نہیں آیا، تاہم وہ نظام کے اندر رہتے ہوئے ہر معاملے پر بات چیت کے لیے تیار ہیں اور نظام سے باہر کسی بھی غیر آئینی اقدام کے قائل نہیں ہیں۔ پاک افغان تعلقات پر پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں مولانا فضل الرحمٰن نے دونوں ممالک کو ایک دوسرے کے لیے ناگزیر قرار دیتے ہوئے زور دیا کہ خطے کے امن اور باہمی مسائل کے پائیدار حل کے لیے اسلام آباد اور کابل کو مل بیٹھ کر مشترکہ حکمتِ عملی اپنانی ہوگی۔