مجوزہ 28 ویں ترمیم میں ووٹر کی عمر کی حد میں کوئی تبدیلی نہیں کی جا رہی، خیبرپختونخوا کی 31 رکنی کابینہ غضبِ خدا ہے؛ وفاقی وزیرِ اطلاعات عطا اللہ تارڑ کا بیانیہ
اسلام آباد: وفاقی وزیرِ اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے سوشل میڈیا اور مختلف حلقوں میں گردش کرنے والی ان افواہوں کی سختی سے تردید کر دی ہے جن میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ مجوزہ 28 ویں آئینی ترمیم کے تحت ووٹر کی عمر کی حد بڑھا کر 25 سال کی جا رہی ہے۔ ایک خصوصی انٹرویو اور قومی اسمبلی میں خطاب کے دوران وفاقی وزیر نے واضح کیا کہ ان خبروں میں کوئی صداقت نہیں ہے اور عمر کی حد میں تبدیلی کا کوئی ارادہ زیرِ غور نہیں ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ ایسی من گھڑت افواہوں پر کان نہ دھریں کیونکہ یہ محض اڑائی جانے والی افواہیں ہیں جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔
عطا اللہ تارڑ نے خیبرپختونخوا کی صوبائی حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں 31 رکنی کابینہ کا قائم کیا جانا غضبِ خدا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ پچھلے 12 سال سے ایک ہی جماعت صوبے پر حکومت کر رہی ہے، لیکن وہاں پرفارمنس نام کی کوئی چیز نظر نہیں آتی۔ کے پی حکومت نے وہاں کون سے اصلاحاتی معجزے کر دکھائے ہیں؟ وہاں گڈ گورننس کہاں ہے اور امن و امان (لا اینڈ آرڈر) کی صورتحال میں کیا بہتری لائی گئی ہے؟
قومی اسمبلی میں ترقیاتی امور پر گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیرِ اطلاعات نے یقین دہانی کرائی کہ حکومت کوارٹر وائز فنڈز کے مکمل استعمال کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کرے گی۔ دستیاب منصوبوں کی بروقت تکمیل کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات جاری رہیں گے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ وزارتِ اطلاعات مختلف جامعات کے میڈیا ڈپارٹمنٹس میں وزارت کے تعاون سے 'اے آئی' (AI) کے جدید پروگرامز شروع کر رہی ہے۔ فنڈز کے طریقہ کار کی وضاحت کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وزارتِ اطلاعات اور خزانہ ڈویژن کے درمیان کوارٹرلی ریلیز کا میکانزم طے شدہ ہے، جس کے تحت یوٹیلائزیشن کے مطابق ہر سہ ماہی میں فنڈز باقاعدگی سے ریلیز کیے جاتے ہیں۔