باجوڑ(نمائندہ خصوصی) باجوڑ میں پولیو ٹیموں کی سیکیورٹی پر مامور دو پولیس اہلکار شہید، نماز جنازہ ادا، علاقائی مشران کا پولیو مہم سے بائیکاٹ کا اعلان۔
تفصیلات کے مطابق انسدادِ پولیو مہم کے پہلے ہی روز تحصیل سلارزئی کے مختلف علاقوں میں پولیو ٹیموں کی سیکیورٹی پر مامور پولیس اہلکاروں پر دو گھات لگا کر حملے کیے گئے، جس کے نتیجے میں دو پولیس کانسٹیبل شہید ہو گئے۔پولیس ذرائع کے مطابق پہلا حملہ تحصیل سلارزئی کے علاقے ڈاگ قلعہ نازکئی میں پیش آیا جہاں پولیو ٹیم کی سیکیورٹی پر مامور کانسٹیبل سید عزیز کو نامعلوم افراد نے نشانہ بنایا، جو موقع پر ہی شہید ہوگئے۔ پولیس اس واقعے کی تحقیقات اور سرچ آپریشن میں مصروف تھی کہ اسی دوران تحصیل سلارزئی کے گاؤں ''تبئی'' میں پولیو ٹیم پر دوسرا حملہ کر دیا گیا۔پولیس کے مطابق دوسرے واقعے میں پولیو ڈیوٹی سے واپس آنے والے کانسٹیبل سید قادر شاہ نامعلوم افراد کی اندھا دھند فائرنگ کا نشانہ بنے اور شدید زخمی ہونے کے بعد دم توڑ گئے۔ دونوں شہید اہلکاروں کی میتیں باجوڑ پولیس لائنز منتقل کر دی گئیں۔بعد ازاں پولیو ڈیوٹی کے دوران شہید ہونے والے دونوں پولیس اہلکاروں کی نماز جنازہ ادا کر دی گئی۔ نماز جنازہ میں ڈپٹی کمشنر باجوڑ شاہد علی، ڈی پی او باجوڑ محمد خالد، پولیس اور سیکیورٹی اہلکاروں سمیت مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔نماز جنازہ کے موقع پر رقت آمیز مناظر دیکھنے کو ملے، ہر آنکھ اشکبار تھی جبکہ اہل خانہ کی آہ و بکا سے فضا سوگوار ہو گئی۔ اس موقع پر باجوڑ پولیس کے چاق و چوبند دستے نے شہداء کی میتوں کو سلامی پیش کی، جس کے بعد انہیں سرکاری اعزاز کے ساتھ ان کے آبائی علاقوں کی جانب روانہ کر دیا گیا۔ نماز جنازہ کے موقع پاکستان پیپلز پارٹی کے صدر حاجی شیر بہادر، اے این پی رہنما سید صدیق اکبر اور دیگر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت سے مطالبہ کیا کہ انسداد پولیو مہم فوری طور بند کیا جائے کیونکہ سیکورٹی صورتحال نہایت مخدوش ہے جب حالات ٹھیک ہوجائے تو پھر بے شک پولیو مہم شروع کیا جائے۔ دوسری جانب ایک ہی روز میں دو پولیس اہلکاروں کی شہادت کے بعد ضلعی انتظامیہ اور پولیس حکام نے تحصیل سلارزئی سمیت پورے ضلع باجوڑ میں سیکیورٹی مزید سخت کر دی ہے جبکہ حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے متاثرہ علاقوں میں سرچ آپریشن جاری ہے۔