مہنگائی اور پٹرولیم لیوی کے خلاف جماعت اسلامی کا بڑا فیصلہ: 22 مئی کو ملک گیر دھرنے، جون میں ہڑتال اور اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کا اعلان
تیمرگرہ (نمائندہ خصوصی): امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمٰن نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور بھاری پٹرولیم لیوی کے خلاف آئندہ بدھ، 22 مئی کو ملک گیر سطح پر بھرپور احتجاجی مظاہروں اور دھرنوں کا اعلان کر دیا ہے۔ لوئر دیر کے ہیڈ کوارٹر تیمرگرہ ریسٹ ہاؤس گراؤنڈ میں جماعت اسلامی کے زیرِ اہتمام منعقدہ ایک بڑے اور تاریخی جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ اگر حکومت نے پٹرول کی قیمتیں کم نہ کیں تو سڑکیں جام کر دی جائیں گی اور اسلام آباد کی جانب فیصلہ کن لانگ مارچ کیا جائے گا۔
اپنے دھواں دھار خطاب میں حافظ نعیم الرحمٰن نے جون کے پہلے عشرے میں چاروں صوبوں میں شٹر ڈاؤن ہڑتال کا عندیہ بھی دیا۔ انہوں نے بانی پی ٹی آئی عمران خان سمیت تمام سیاسی قیدیوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے عوام موجودہ حکمرانوں اور فرسودہ نظام سے شدید تنگ آ چکے ہیں، اور اب وقت آ گیا ہے کہ اس ظالمانہ نظام کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ امیر جماعت اسلامی نے انکشاف کیا کہ حکومت اب تک پٹرولیم لیوی کی مد میں عوام سے 8 ہزار 66 ارب روپے وصول کر چکی ہے، جبکہ غریب عوام پر 410 روپے فی لیٹر تک پٹرول مسلط کرنا سراسر ظلم ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ جماعت اسلامی اس پٹرولیم لیوی کے خلاف آئینی عدالت میں باقاعدہ درخواست دائر کرے گی۔
حافظ نعیم الرحمٰن نے دوٹوک انداز میں کہا کہ جماعت اسلامی اقتدار کے لیے کسی بیساکھی یا جماعت سے اتحاد نہیں کرے گی بلکہ صرف اور صرف عوام کی طاقت پر اعتماد کرے گی۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ گزشتہ 79 برس سے ملک پر افسر شاہی، جاگیرداروں، سرمایہ داروں اور مافیاز کا ایک ایسا کنسورشیم مسلط ہے جس نے عوام کا استحصال کیا۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ جماعت اسلامی کا مارچ اٹک پل تک محدود نہیں رہے گا بلکہ ملک میں حقیقی تبدیلی تک یہ جدوجہد جاری رہے گی۔ جلسہ عام سے سابق امیر جماعت اسلامی سراج الحق، امیر جماعت اسلامی خیبر پختونخوا پروفیسر محمد ابراہیم، صوبائی رہنما عنایت اللہ خان اور امیر جماعت اسلامی دیر پائین مولانا اسد اللہ نے بھی خطاب کیا۔