کے پی حکومت کا کسانوں سے 2 لاکھ 25 ہزار ٹن گندم خریدنے کا اعلان؛ ادائیگی 24 گھنٹے میں ہوگی، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا وفاق پر آئینی حق نہ دینے کا شکوہ
پشاور: خیبرپختونخوا حکومت نے صوبے میں جاری آٹے کے بحران اور زمینداروں کے معاشی تحفظ کے لیے ایک بڑے ہنگامی اقدام کا اعلان کیا ہے۔ مشیرِ خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم کے مطابق، صوبائی حکومت اپنے ذاتی وسائل کا استعمال کرتے ہوئے کسانوں اور زمینداروں سے 2 لاکھ 25 ہزار ٹن گندم خریدنے جا رہی ہے۔ حکومت نے گندم کی سرکاری قیمت 3500 روپے فی من مقرر کی ہے، جبکہ کسانوں کی مالی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ ضمانت دی گئی ہے کہ مال کی فراہمی کے محض 24 گھنٹے کے اندر اندر تمام ادائیگیاں یقینی بنائی جائیں گی۔
دوسری جانب، صوبے میں امن و امان کی نازک صورتحال، گیس کی طویل بندش اور آٹے کے شدید بحران کے سدِباب کے لیے ایک اہم سیاسی پیشرفت سامنے آئی ہے۔ پشاور میں منعقدہ ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس میں صوبائی حکومت، اپوزیشن اور گورنر خیبرپختونخوا تمام تر سیاسی اختلافات بھلا کر ایک ہی پیج پر آ گئے ہیں۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ گیس کی بندش اور آٹے کے بحران نے عوام کا جینا محال کر دیا ہے، جبکہ امن و امان برقرار رکھنا بھی ایک کڑا چیلنج بن چکا ہے۔ انہوں نے وفاقی حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے واشگاف الفاظ میں کہا کہ وفاق صوبے کو اس کا جائز اور آئینی حق دینے سے گریزاں ہے، جس کے خلاف تمام سیاسی قوتیں متحد ہو کر آواز اٹھائیں گی۔
اہم تفصیلات