حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
کے پی حکومت کا آئندہ مالی سال میں صحافیوں کے لیے "بلا سود قرضہ اسکیم" متعارف کرانے کا فیصلہ۔ Home / لائف سٹائل /

کے پی حکومت کا آئندہ مالی سال میں صحافیوں کے لیے "بلا سود قرضہ اسکیم" متعارف کرانے کا فیصلہ۔

ایڈیٹر - 19/05/2026
کے پی حکومت کا آئندہ مالی سال میں صحافیوں کے لیے

کے پی حکومت کا میڈیا ہاؤسز کو اشتہارات کے واجبات ادا کرنے کا عمل شروع؛ صحافیوں کو بلا سود قرضے دینے اور روزگار کے تحفظ کا تاریخی فیصلہ

پشاور: خیبرپختونخوا حکومت نے صوبے میں میڈیا ورکرز کے معاشی تحفظ اور میڈیا انڈسٹری کے دیرینہ مسائل حل کرنے کے لیے انقلابی اقدامات کا آغاز کر دیا ہے۔ خیبرپختونخوا اسمبلی میں خیبر یونین آف جرنلسٹس کے صدر کاشف الدین سید اور پشاور پریس کلب کے صدرایم ریاض  کی سربراہی میں صحافیوں کے ایک اعلیٰ سطح کے وفد نے صوبائی وزیر شفیع جان سے اہم ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران وفد نے صوبائی وزیر کو صحافتی اداروں سے ملازمین کی جبری برطرفیوں، تنخواہوں کی عدم ادائیگی، بقایاجات اور ملک گیر احتجاجی تحریک کے مطالبات سے تفصیلی طور پر آگاہ کیا۔

صوبائی وزیرِ اطلاعات شفیع جان نے وفد کے تمام مطالبات کو جائز قرار دیتے ہوئے واشگاف الفاظ میں کہا کہ صحافیوں اور میڈیا ورکرز کے روزگار کا تحفظ ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت نے 2021 سے 2025 تک کے اشتہارات کے واجبات کی مرحلہ وار ادائیگی کا عمل شروع کر دیا ہے، تاہم اخبارات اور میڈیا ہاؤسز کو ان واجبات کی ادائیگی میڈیا ورکرز کی تنخواہوں اور بقایاجات کی کلیئرنس سے مشروط ہوگی۔ انہوں نے میڈیا اداروں کی جانب سے ملازمین کو بغیر کسی نوٹس کے برطرف کرنے کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے ایک انتہائی افسوسناک اقدام قرار دیا۔

صوبائی وزیر نے صحافیوں کے مسائل کے پائیدار حل کے لیے ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دینے کی تجویز پیش کی جو میڈیا ہاؤسز پر واجب الادا رقم اور ملازمین کی تفصیلات کا ڈیٹا مرتب کرے گی۔ انہوں نے دوٹوک مؤقف اختیار کیا کہ جو ادارے خیبرپختونخوا کے صحافیوں کو روزگار اور کم از کم اجرت فراہم نہیں کریں گے، انہیں سرکاری اشتہارات جاری نہیں کیے جائیں گے۔ مزید برآں، شفیع جان نے صحافی برادری کے لیے ایک بڑے معاشی پیکیج کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ آئندہ مالی سال میں صحافیوں کے لیے "بلا سود قرضہ اسکیم" متعارف کرائی جا رہی ہے۔ صوبائی وزیر کی جانب سے ملنے والی ٹھوس یقین دہانیوں کے بعد خیبر یونین آف جرنلسٹس اور پشاور پریس کلب کے صدور نے اپنا علامتی احتجاج باضابطہ طور پر ختم کرنے کا اعلان کر دیا۔

 

اہم تفصیلات 

  • روزگار کا تحفظ (Job Security): صوبائی وزیر شفیع جان نے واضح کیا ہے کہ اخبارات اور میڈیا ہاؤسز سے ملازمین کو بغیر کسی نوٹس کے برطرف کرنے کا عمل افسوس ناک ہے، اور حکومت صحافیوں کے روزگار کا تحفظ (Security) ہر صورت یقینی بنائے گی۔
  • بقایا جات کی مرحلہ وار ادائیگی (Payment of Dues): کے پی حکومت نے سال 2021 سے 2025 تک کے تمام سرکاری اشتہارات کے بقایا جات کی مرحلہ وار ادائیگی (Payment Disbursal) کا عمل شروع کر دیا ہے، تاکہ میڈیا ورکرز کو ان کی رکی ہوئی تنخواہیں مل سکیں۔
  • سرکاری اشتہارات کی نئی پالیسی (Ad Policy Condition): حکومت نے واضح کر دیا ہے کہ جو میڈیا مالکان اپنے ورکرز کو وقت پر Salary (تنخواہ) یا مقررہ کم از کم اجرت فراہم نہیں کریں گے، انہیں سرکاری اشتہارات (Government Ads) جاری نہیں کیے جائیں گے۔
  • بلا سود قرضہ اسکیم (Interest-Free Loan): صحافیوں کی مالی معاونت اور معاشی استحکام کے لیے اگلے مالیاتی سال کے بجٹ میں ایک خصوصی بلا سود قرضہ اسکیم (Loan Scheme) متعارف کرائی جا رہی ہے۔
  • خصوصی کمیٹی کا قیام (Registration & Database): میڈیا ہاؤسز کے واجب الادا فنڈز اور ملازمین کی تنخواہوں کا درست ڈیٹا مرتب کرنے کے لیے ایک اعلیٰ سطح کی کمیٹی تشکیل دینے کی تجویز دی گئی ہے، جہاں تمام متاثرہ صحافی اپنی رجسٹریشن کروا سکیں گے۔