کے پی حکومت کا میڈیا ہاؤسز کو اشتہارات کے واجبات ادا کرنے کا عمل شروع؛ صحافیوں کو بلا سود قرضے دینے اور روزگار کے تحفظ کا تاریخی فیصلہ
پشاور: خیبرپختونخوا حکومت نے صوبے میں میڈیا ورکرز کے معاشی تحفظ اور میڈیا انڈسٹری کے دیرینہ مسائل حل کرنے کے لیے انقلابی اقدامات کا آغاز کر دیا ہے۔ خیبرپختونخوا اسمبلی میں خیبر یونین آف جرنلسٹس کے صدر کاشف الدین سید اور پشاور پریس کلب کے صدرایم ریاض کی سربراہی میں صحافیوں کے ایک اعلیٰ سطح کے وفد نے صوبائی وزیر شفیع جان سے اہم ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران وفد نے صوبائی وزیر کو صحافتی اداروں سے ملازمین کی جبری برطرفیوں، تنخواہوں کی عدم ادائیگی، بقایاجات اور ملک گیر احتجاجی تحریک کے مطالبات سے تفصیلی طور پر آگاہ کیا۔
صوبائی وزیرِ اطلاعات شفیع جان نے وفد کے تمام مطالبات کو جائز قرار دیتے ہوئے واشگاف الفاظ میں کہا کہ صحافیوں اور میڈیا ورکرز کے روزگار کا تحفظ ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت نے 2021 سے 2025 تک کے اشتہارات کے واجبات کی مرحلہ وار ادائیگی کا عمل شروع کر دیا ہے، تاہم اخبارات اور میڈیا ہاؤسز کو ان واجبات کی ادائیگی میڈیا ورکرز کی تنخواہوں اور بقایاجات کی کلیئرنس سے مشروط ہوگی۔ انہوں نے میڈیا اداروں کی جانب سے ملازمین کو بغیر کسی نوٹس کے برطرف کرنے کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے ایک انتہائی افسوسناک اقدام قرار دیا۔
صوبائی وزیر نے صحافیوں کے مسائل کے پائیدار حل کے لیے ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دینے کی تجویز پیش کی جو میڈیا ہاؤسز پر واجب الادا رقم اور ملازمین کی تفصیلات کا ڈیٹا مرتب کرے گی۔ انہوں نے دوٹوک مؤقف اختیار کیا کہ جو ادارے خیبرپختونخوا کے صحافیوں کو روزگار اور کم از کم اجرت فراہم نہیں کریں گے، انہیں سرکاری اشتہارات جاری نہیں کیے جائیں گے۔ مزید برآں، شفیع جان نے صحافی برادری کے لیے ایک بڑے معاشی پیکیج کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ آئندہ مالی سال میں صحافیوں کے لیے "بلا سود قرضہ اسکیم" متعارف کرائی جا رہی ہے۔ صوبائی وزیر کی جانب سے ملنے والی ٹھوس یقین دہانیوں کے بعد خیبر یونین آف جرنلسٹس اور پشاور پریس کلب کے صدور نے اپنا علامتی احتجاج باضابطہ طور پر ختم کرنے کا اعلان کر دیا۔
اہم تفصیلات