حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
چین میں جاسوسی کا ڈر؟ امریکی وفد چین موبائل چارج کرنے سے گھبرانے لگے Home / بین الاقوامی /

چین میں جاسوسی کا ڈر؟ امریکی وفد چین موبائل چارج کرنے سے گھبرانے لگے

ایڈیٹر - 16/05/2026
چین میں جاسوسی کا ڈر؟ امریکی وفد چین موبائل چارج کرنے سے گھبرانے لگے

چینی سیکیورٹی نظام سے امریکی حکام میں کھلبلی؛ دورہ چین کے دوران ڈیٹا ہیکنگ کے خوف سے ذاتی ڈیوائسز ساتھ لے جانے پر پابندی

واشنگٹن: امریکہ اور چین کے مابین ٹیکنالوجی اور جاسوسی کی سرد جنگ ایک نئے اور انتہائی حساس موڑ پر پہنچ گئی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ دورہ چین کے دوران امریکی وفد کی جانب سے غیر معمولی اور حیران کن سائبر سیکیورٹی اقدامات سامنے آئے ہیں۔ امریکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق، صدر ٹرمپ کے ہمراہ چین جانے والے اعلیٰ سرکاری حکام، اہم سفارت کار اور صفِ اول کے کاروباری شخصیات بیجنگ روانگی سے قبل اپنے ذاتی موبائل فون اور لیپ ٹاپ امریکہ میں ہی چھوڑنے پر مجبور ہو گئے۔

تفصیلات کے مطابق، امریکی انٹیلیجنس اور سیکیورٹی اداروں کو شدید خدشہ تھا کہ چین کا جدید ترین سیکیورٹی اور نگرانی کا نظام (Surveillance System) امریکی حکام کے ذاتی ڈیٹا تک رسائی حاصل کر سکتا ہے یا ان کی ڈیوائسز کو ہیک کر سکتا ہے۔ اسی خوف کے پیشِ نظر متعدد اعلیٰ حکام نے چین میں صرف محدود فیچرز والے عارضی "برنر فونز" استعمال کیے، جبکہ بعض انتہائی حساس معلومات رکھنے والے افراد نے ڈیوائسز کو مکمل طور پر بند رکھنے کا فیصلہ کیا۔ امریکی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ وفد اس حد تک محتاط تھا کہ چین میں وال چارجنگ پورٹس یا پبلک نیٹ ورکس سے فون چارج کرنے سے بھی گریز کیا گیا، کیونکہ خدشہ تھا کہ چارجنگ سسٹم کے ذریعے ڈیوائسز میں خفیہ مالویئر یا مالیشیس سافٹ ویئر انسٹال کر کے ڈیٹا چوری کیا جا سکتا ہے۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ اس ہائی پروفائل وفد میں ایپل (Apple)، بوئنگ (Boeing) اور بلیک راک (BlackRock) جیسی عالمی سطح کی بڑی امریکی کمپنیوں کے نمائندے اور سی ای اوز بھی شامل تھے، جنہوں نے چین میں قیام کے دوران انتہائی سخت سیکیورٹی پروٹوکولز پر عمل کیا۔ بین الاقوامی میڈیا کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکہ اور چین کے مابین ٹیکنالوجی کی دوڑ اور جاسوسی کے بڑھتے ہوئے خدشات نے دونوں عالمی طاقتوں کے تعلقات کو مزید پیچیدہ اور انتہائی حساس بنا دیا ہے، جہاں اب ایک عام چارجنگ کیبل بھی قومی سلامتی کے لیے خطرہ تصور کی جا رہی ہے۔