پاکستان میں بے روزگاری کی شرح 7 فیصد سے تجاوز، گزشتہ مالی سال میں 59 لاکھ نوجوان روزگار سے محروم: سینیٹ میں رپورٹ پیش
اسلام آباد: ملک بھر میں معاشی جمود اور روزگار کے مواقعوں میں کمی کے باعث بے روزگاری کا بحران انتہائی سنگین صورتحال اختیار کر گیا ہے۔ گزشتہ مالی سال 25-2024 کے دوران ملک میں بے روزگار نوجوانوں کی تعداد 59 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے، جبکہ مجموعی طور پر بے روزگاری کی شرح 7 فیصد کی خطرناک سطح سے اوپر چلی گئی ہے۔ یہ ہوشربا انکشافات وزارتِ اوورسیز پاکستانیز اینڈ ہیومن ریسورس ڈیولپمنٹ کی جانب سے سینیٹ کے حالیہ اجلاس میں جمع کروائی گئی ایک تفصیلی رپورٹ میں کیے گئے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق، سینیٹ کے جمعہ کے روز ہونے والے اجلاس میں محکمہ شماریات اور پاکستان لیبر فورس سروے 25-2024 کے مستند اعداد و شمار پیش کیے گئے۔ رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ 59 لاکھ پاکستانی نوجوان اس وقت مکمل طور پر بے روزگار ہیں اور ان کی تعداد میں مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔ اس بحران کے حل کے لیے وزارت نے متبادل اقدامات کے طور پر سمندر پار روزگار کے مواقع تلاش کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ وزارت کے مطابق، اس وقت عمان، مالدیپ، قطر اور جنوبی کوریا سمیت مختلف خلیجی اور ایشیائی ممالک میں 1 لاکھ 40 ہزار 688 اسامیوں پر پاکستانیوں کی تقرری طلب کی گئی ہے۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ ان غیر ملکی اسامیوں میں سے 1 لاکھ 33 ہزار سے زائد بھرتیاں اوورسیز ایمپلائمنٹ پروموٹرز کے ذریعے عمل میں لائی جا رہی ہیں، جبکہ 6 ہزار سے زائد اسامیوں پر تقرری سرکاری ادارے 'اوورسیز ایمپلائمنٹ کارپوریشن' (OEC) کی جانب سے کی گئی ہے۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ بیرونی ممالک میں ملازمتیں فراہم کرنا ایک مثبت قدم ہے، تاہم ملکی سطح پر صنعتی اور تجارتی سرگرمیوں کو بحال کیے بغیر کروڑوں نوجوانوں کو بے روزگاری کے دلدل سے نکالنا ناممکن حد تک دشوار ہو جائے گا۔
اہم ترین تفصیلات اور اہم نکات